اسحاق ڈار اور سعودی وزیرِ خارجہ کی خطے کی صورتحال پر گفتگو، امن کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ
- یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں نے ہفتے کے روز سعودی عرب پر میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق، ”دونوں رہنماؤں نے مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور خطے میں تعمیری روابط، امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔“
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں حوثیوں نے ہفتے کے روز سعودی عرب پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر مزید حملوں کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
ایران میں مسلسل 13 راتوں تک فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوج نے ہفتے کے روز اپنی روزانہ کی کارروائیوں سے متعلق کوئی نیا حملہ رپورٹ نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد تنازع مزید پھیل گیا، جب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر جازان پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا۔


Comments