ٹرمپ نے چین اور روس کو ایران جنگ میں مداخلت سے خبردار کر دیا
- امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر چین یا روس ایران جنگ میں شامل ہوئے تو اس کے نتائج ان کے لیے بہت برے ہوں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ چین یا روس جاری ایران تنازع میں ”شریک“ ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دونوں میں سے کوئی بھی اس جنگ میں شامل ہوا تو ”اس کے نتائج ان کے لیے انتہائی سنگین ہوں گے۔“
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ”حال ہی میں بیجنگ میں ہونے والی ہماری ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے مجھے بتایا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران کو ہتھیار نہ دیں گے اور نہ ہی فروخت کریں گے، اور یہ یقین دہانی چینی کمپنیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔“
ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ روس ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں روس اور چین ایران سے متعلق جاری تنازع میں شریک نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا، ”اگر انہوں نے ایسا کیا تو اس کے نتائج ان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوں گے، اور یہ ہرگز ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔“
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اس وقت سے جاری ہے جب امریکا اور اسرائیل نے فروری میں ایران پر حملے کیے، جن میں ملک کی اعلیٰ قیادت، بشمول سپریم لیڈر، ہلاک ہوگئے تھے۔
امریکی انٹیلی جنس سے واقف چار ذرائع نے بتایا کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں خلیجی خطے میں سی آئی اے کے اہداف پر ایرانی حملوں کے بعد امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اس امکان کی تحقیقات شروع کیں کہ آیا روس ایران کو اہداف کی نشاندہی سے متعلق معلومات یا ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔ تاہم کریملن نے جمعرات کو اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
امریکا اس سے قبل بھی ایران کو ہتھیاروں کے حصول میں معاونت کے الزام میں روس اور چین سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔


Comments