اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، 100 انڈیکس میں 600 پوائنٹس کا اضافہ
- صبح 9:38 بجے بینچ مارک انڈیکس 175,023.62 پر جاپہنچا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز کے چند منٹوں بعد ہی خریداری کا رجحان ایک بار پھر لوٹ آگیا جس کی بدولت 100 انڈیکس میں تقریباً 600 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 9:38 بجے بینچ مارک انڈیکس 593.70 پوائنٹس یا 0.34 فیصد اضافے سے 175,023.62 پر جاپہنچا۔
کمرشل بینکوں، کھاد، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیز)، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ اے آر ایل ، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل ، پی ایس او، میزان بینک، این بی پی اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
بدھ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسلسل خدشات کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کا شکار رہا جس سے بڑے پیمانے پر رسک آؤٹ کا رجحان پیدا ہوا اور سرمایہ کاروں کو بلیو چپ اور سائیکلکل اسٹاکس میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 1,703.64 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی سے 1,74,429.93 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو ایشیائی حصص میں اضافہ ہوا کیونکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں کا اعلان کیا جن سے خطے کے چپ ساز اداروں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے تیل کی قیمتوں کو چھ ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔
تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو بھی دوبارہ تازہ کردیا جس کی وجہ سے امریکی ٹریژری ییلڈ 17 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ تاجر یہ شرط لگا رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو کو جلد از جلد شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے ایک نئے سلسلے اور یمن کے حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد برینٹ کروڈ کے سودے ابتدائی ٹریڈنگ میں 2 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جس نے اس تنازع کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس نے عالمی منڈیوں پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں۔
الفابیٹ اور ٹیسلا کی آمدنی سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر بھاری اخراجات میں کوئی کمی ظاہر نہیں ہوئی۔ سرچ جائنٹ نے سال کے لیے اپنے سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں میں اضافہ کردیا اور اب اسے 195 ارب ڈالر سے 205 ارب ڈالر کے درمیان خرچ کرنے کی توقع ہے۔
اس اخراجات کا ایک بڑا حصہ ایشیائی چِپ ساز کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی توقع ہے۔ اسی امید کے باعث جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 3 فیصد سے زائد بڑھ گیا جس کی قیادت ایس کے ہائنکس اور سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص نے کی جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 1 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً 1 فیصد بڑھ گیا جو ہفتے کے دوران 3 فیصد اضافے کی راہ پر گامزن ہے اور اس نے دو ہفتے کی مسلسل گراوٹ کے سلسلے کو توڑ دیا ہے۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے


Comments