ایندھن کی فراہمی کو دوبارہ خطرات لاحق
- ایک اور تشویش تجارتی ذخائر میں کمی ہے، جو جون کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی، یا اس سے بھی کم، سطح پر آ چکے ہیں
پیٹرولیم کا شعبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حکومت ایسے وقت میں روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کی طرف جا رہی ہے جب عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ پیٹرول پمپ ڈیلرز اس تبدیلی پر ناراض ہیں کیونکہ نئے نظام کے تحت وہ اسٹاک پر حاصل ہونے والا وہ اضافی منافع کھو دیں گے جو انہیں قیمتیں بڑھنے کی صورت میں پہلے حاصل ہوتا تھا۔
ایک اور تشویش تجارتی ذخائر میں کمی ہے، جو جون کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی، یا اس سے بھی کم، سطح پر آ چکے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں بند رہے تو چند ہی ہفتوں میں ڈیزل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کسی حد تک پٹڑی سے اتر گئی ہے۔
جب جنگ شروع ہوئی تو حکومت پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر بڑھا چکی تھی اور زیادہ قیمتوں کے باوجود مختلف ذرائع سے سپلائی بھی یقینی بنا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی نافذ کیے۔ یہ حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی تھی۔تاہم جب مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد قیمتیں گرنا شروع ہوئیں تو حکومت نے آہستہ آہستہ کفایت شعاری کے اقدامات واپس لینا شروع کر دیے۔
بظاہر اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا کہ قیمتوں میں کمی اور کفایت شعاری میں نرمی مل کر طلب میں اضافہ کریں گی، اور بالکل یہی ہوا۔جولائی میں یومیہ اوسط طلب، جسے 21 ہزار ٹن رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، بڑھ کر تقریباً 25 ہزار ٹن یومیہ کی حقیقی فروخت تک پہنچ گئی، جبکہ درآمدات کم سطح پر منصوبہ بند کی گئی تھیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں خراب سیکیورٹی صورتحال کے باعث ایران سے اسمگل ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات بھی تقریباً بند ہو گئی ہیں۔
حقیقتاً طلب میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈیلرز اور مارکیٹ کے دیگر شرکا بھی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کے باعث اسٹاک بڑھا رہے ہیں تاکہ ممکنہ انوینٹری منافع حاصل کر سکیں۔20 جولائی تک ملک میں پیٹرول کے ذخائر کم ہو کر صرف 16 دن کی سپلائی کے برابر رہ گئے تھے، جبکہ راستے میں موجود کارگو شامل کیے جائیں تو یہ 23 دن بنتے ہیں۔ اسی طرح ڈیزل کے ذخائر 21 دن کی سطح پر آ گئے، جبکہ یکم جون کو یہی ذخائر بالترتیب 29 دن اور 44 دن کے برابر تھے۔
بظاہر یہ صورتحال زیادہ تشویشناک محسوس نہیں ہوتی کیونکہ آئندہ چند ہفتوں تک حالات قابو میں ہیں۔ نئے کارگو راستے میں ہیں اور آئندہ دنوں میں ذخائر بڑھنے کی توقع ہے۔تاہم اگر طلب پر قابو نہ پایا گیا تو خطرات مسلسل بڑھتے جائیں گے۔آبنائے ہرمز پہلے ہی بند ہے، اور خام تیل اب زیادہ تر باب المندب کے راستے پہنچ رہا ہے، جسے بھی حوثیوں کی جانب سے بند کیے جانے کا خطرہ لاحق ہے۔
اگر ایسا ہوا تو خام تیل کی درآمدات کم ہو جائیں گی، جس سے ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مقامی پیداوار متاثر ہوگی، کیونکہ اس کا تقریباً 70 فیصد ملک کے اندر ریفائن کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی کمی کو پورا کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کا صرف 30 فیصد ملک میں ریفائن ہوتا ہے اور باقی ضرورت عمان اور سنگاپور سے درآمدات کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہے۔
دوسری طرف، پیٹرول پمپ ڈیلرز نے روزانہ قیمتوں کے نظام کے خلاف غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ماہانہ قیمتوں کے تعین کا پرانا نظام بحال کیا جائے۔حکومت اور پیٹرولیم صنعت نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈیلرز کا مؤقف غیر معقول ہے، اور روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام زیادہ بہتر ہے۔اس نئے نظام میں ڈیلرز کو بنیادی طور پر فی لیٹر 8 روپے کے مقررہ منافع انحصار کرنا ہوگا اور انہیں بڑے انوینٹری منافع سے دستبردار ہونا پڑے گا، تاہم یہی نظام قیمتیں کم ہونے کی صورت میں انہیں انوینٹری نقصانات سے بھی محفوظ رکھے گا۔
اس کے باوجود خدشہ ہے کہ ملک بھر کے تقریباً 12 ہزار پیٹرول پمپوں میں سے ایک بڑی تعداد بند ہو سکتی ہے، جس سے خصوصاً چھوٹے شہروں میں سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی طرح پیٹرولیم ذخائر میں کمی کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ مشکل وقت ہے۔ قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور سپلائی میں رکاوٹیں مزید سنگین ہو سکتی ہیں۔
وسیع تر قومی اور معاشی مفاد میں حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی طلب کم کرنے اور درآمدی بل کو قابو میں رکھنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کرے۔


Comments