BR100 Decreased By (-0.56%)
BR30 Decreased By (-1.04%)
KSE100 Decreased By (-0.48%)
KSE30 Decreased By (-0.45%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.97 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 30.15 Decreased By ▼ -0.20 (-0.66%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.97 Decreased By ▼ -4.48 (-2.33%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.15 Decreased By ▼ -0.64 (-1.21%)
FFL 14.57 Decreased By ▼ -0.15 (-1.02%)
GGL 19.26 Decreased By ▼ -0.30 (-1.53%)
HBL 305.53 Decreased By ▼ -0.57 (-0.19%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.39 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
MLCF 91.89 Decreased By ▼ -1.27 (-1.36%)
OGDC 315.10 Decreased By ▼ -1.63 (-0.51%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.48 (-1.35%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 223.20 Decreased By ▼ -3.71 (-1.64%)
PRL 91.35 Decreased By ▼ -1.67 (-1.8%)
SNGP 90.75 Decreased By ▼ -1.09 (-1.19%)
SSGC 23.33 Decreased By ▼ -0.48 (-2.02%)
TELE 7.70 Decreased By ▼ -0.10 (-1.28%)
TPLP 12.62 Decreased By ▼ -0.35 (-2.7%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت مانگ لی

  • اس درخواست کی خبر پہلی بار سامنے آئی ہے۔ یہ پیش رفت ایران جنگ کے حوالے سے مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد ہوئی
شائع اپ ڈیٹ

معاملے سے آگاہ ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست کی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں مالی مشکلات سے دوچار پاکستانی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔

اس درخواست کی خبر پہلی بار سامنے آئی ہے۔ یہ پیش رفت ایران جنگ کے حوالے سے مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد ہوئی، جس سے اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا اور امریکا سمیت دیگر شراکت داروں سے معاشی تعاون حاصل کرنے کی امیدیں پیدا ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں امریکا اور پاکستان کے درمیان 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس کی مدت پانچ سال تک رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اگر یہ سہولت منظور ہو جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے، روپے پر دباؤ کم ہوگا اور ملک کا انحصار کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے قرضوں پر بھی کم ہو جائے گا، جبکہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اور مانیٹری اصلاحات جاری رکھے گا۔

پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکسوں میں اضافے، اخراجات میں کمی اور دیگر غیر مقبول اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔

پاکستان کی وزارت خزانہ نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولتیں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے شاذ و نادر فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ عموماً ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ای ایس ایف) کے ذریعے دی جاتی ہیں، جن کے تحت ڈالر، کرنسی سویپ یا ضمانتیں فراہم کرکے کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنسی کو سہارا دیا جاتا ہے۔

یہ سہولتیں امریکی فیڈرل ریزرو کی ان مستقل ڈالر سویپ لائنز سے مختلف ہوتی ہیں جو چند بڑی مرکزی بینکوں کے ساتھ قائم ہیں۔

2025 میں ارجنٹینا کو دی جانے والی سہولت 2002 میں یوراگوئے کے بعد کسی غیر ملکی حکومت کے لیے پہلی نئی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت تھی، جبکہ میکسیکو کی مستقل سویپ لائن 1940 کی دہائی سے موجود ہے اور اس کا حجم 9 ارب ڈالر ہے۔

پاکستان 2023 میں 3 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی معاہدے کے ذریعے ڈیفالٹ سے بچا تھا، بعد ازاں اسے 7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کا الگ قرض بھی ملا۔ اس کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی چین اور سعودی عرب کی مالی معاونت، رول اوورز اور سرکاری ڈپازٹس پر انحصار کرتے ہیں۔

اپریل میں یہ کمزوری اس وقت نمایاں ہوئی جب پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر واپس کیے، جو اس وقت کے زرمبادلہ ذخائر کا تقریباً 20 فیصد حصہ تھے، جبکہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کی نئی معاونت فراہم کی۔

اسٹیٹ بینک نے جنوری میں کہا تھا کہ 2026 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 20 ارب ڈالر کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔

واشنگٹن سے تعلقات کو نئی جہت

امریکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت نہ صرف پاکستان کے لیے مالیاتی سہارا ثابت ہوگی بلکہ یہ ایک مضبوط سیاسی اشارہ بھی سمجھی جائے گی۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کو استحکام ملے گا اور آئی ایم ایف کی قسطوں یا ہنگامی مالی امداد پر انحصار کم ہوگا۔

فچ ریٹنگز نے اپریل میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر پاکستان کے عمل درآمد نے اس کی مالیاتی صلاحیت بہتر بنائی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی جیسے بیرونی جھٹکوں کے خلاف کچھ تحفظ فراہم کیا ہے۔

تاہم فچ نے خبردار کیا تھا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور سپلائی میں رکاوٹیں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔

پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اب بھی محدود ہے، جس کی وجہ بار بار پیدا ہونے والے بیرونی مالی بحران، پالیسی میں غیر یقینی، سیکیورٹی خدشات، منافع کی بیرون ملک منتقلی پر ماضی کی پابندیاں، محدود برآمدی بنیاد اور کمزور کریڈٹ ریٹنگ ہے، جس کے باعث قرض لینے کی لاگت زیادہ اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی محدود ہے۔

حکومت نے ان مسائل کے حل کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو معاشی تعاون کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تعاون میں کرپٹو کرنسی، رئیل اسٹیٹ اور کان کنی کے شعبے شامل ہیں۔

پاکستان نے سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ورلڈ لبرٹی فنانشل سے وابستہ ادارے کے ساتھ اسٹیبل کوائن معاہدہ کیا ہے، نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِنو ترقی کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر کام کیا ہے، جبکہ ریکوڈک سمیت کان کنی کے منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک پہلے ہی 1.2 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا اعلان کر چکا ہے۔

Comments

200 حروف