خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں سے 12 افراد جاں بحق، این ڈی ایم اے
- شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں سے گھروں کی چھتیں اور دیواریں منہدم ہو گئیں
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے منگل کو بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہوگئے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق ان تازہ ہلاکتوں کے بعد جون کے آخر میں مون سون کا سلسلہ شروع ہونے سے اب تک صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہو گئی ہے، جو اس سیزن میں ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
ادارے کے مطابق شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث پشاور، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، لوئر چترال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر اور کرم کے اضلاع میں متعدد گھروں کی چھتیں اور دیواریں منہدم ہو گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق افراد میں چھ مرد، پانچ بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے۔ بارشوں سے 14 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
دریں اثنا، پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے اپنے بیان میں عوام کو خبردار کیا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مون سون کی شدید بارشوں کے پیشِ نظر غیر ضروری سفر اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے گریز کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ ادارے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، حساس سیاحتی علاقوں سے دور رہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
محکمۂ موسمیات پاکستان نے گزشتہ ہفتے پیش گوئی کی تھی کہ 19 سے 23 جولائی کے دوران خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔ محکمے نے بالخصوص پہاڑی اضلاع میں اچانک سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا تھا، جہاں کمزور انفرااسٹرکچر اور آبادیاں شدید موسمی حالات کے باعث زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔


Comments