غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد شہید
- ہدف حماس کا ایک رکن تھا، اسرائیلی فوج
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں باپ، بیوی اور ان کے چار بچے شہید ہو گئے، حملے کے نتیجے میں ان کا گھر بھی آگ کی لپیٹ میں آ کر جل گیا۔
ہیلتھ آفیشلز کے مطابق صبرا کے علاقے میں اسرائیلی حملے میں فراس المصری نامی شخص، ان کی اہلیہ سلسبیل اور ان کی تین بیٹیاں اور بیٹا مارا گیا۔
اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ہدف حماس کا ایک رکن تھا جب کہ حملے کے نتائج اور اس میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ جمعہ سے اب تک مختلف فضائی حملوں میں حماس اور اسلامک جہاد کے 3 جنگجو مارے گئے جن میں سے دو نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے میں حصہ لیا تھا، اس حملے کے دوران اغوا کیے گئے اسرائیلی یرغمالیوں کو اپنی تحویل میں رکھا تھا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 1,150 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
حماس عموماً اپنے جنگجوؤں کے جانی نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کرتی۔
جنگ بندی کے باعث بڑے پیمانے پر لڑائی تو رک گئی تاہم تقریباً روزانہ ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف جنگجو ہوتے ہیں۔
اسی عرصے کے دوران غزہ میں جنگجوؤں کے حملوں میں چار اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس وقت غزہ کی 20 لاکھ آبادی کا تقریباً تمام حصہ ساحلی پٹی کے ایک محدود علاقے میں رہنے پر مجبور ہے جہاں زیادہ تر لوگ عارضی خیموں یا تباہ حال عمارتوں میں حماس کے زیرِ انتظام علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔


Comments