BR100 Increased By (1.75%)
BR30 Increased By (1.81%)
KSE100 Increased By (1.62%)
KSE30 Increased By (1.61%)
BAFL 57.73 Increased By ▲ 0.70 (1.23%)
BIPL 27.38 Increased By ▲ 0.57 (2.13%)
BOP 34.13 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.60 Increased By ▲ 0.03 (0.31%)
DFML 18.62 Increased By ▲ 0.29 (1.58%)
DGKC 212.95 Increased By ▲ 6.15 (2.97%)
FABL 100.65 Increased By ▲ 1.68 (1.7%)
FCCL 54.10 Increased By ▲ 2.22 (4.28%)
FFL 16.85 Increased By ▲ 0.16 (0.96%)
GGL 24.01 Increased By ▲ 0.53 (2.26%)
HBL 309.25 Increased By ▲ 5.93 (1.96%)
HUBC 221.65 Increased By ▲ 4.13 (1.9%)
HUMNL 10.85 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 7.60 Increased By ▲ 0.17 (2.29%)
LOTCHEM 30.40 Decreased By ▼ -0.18 (-0.59%)
MLCF 98.30 Increased By ▲ 2.63 (2.75%)
OGDC 323.95 Increased By ▲ 2.96 (0.92%)
PAEL 42.27 Increased By ▲ 0.89 (2.15%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 286.46 Increased By ▲ 23.61 (8.98%)
PPL 225.00 Increased By ▲ 0.80 (0.36%)
PRL 41.65 Increased By ▲ 0.25 (0.6%)
SNGP 110.50 Increased By ▲ 6.37 (6.12%)
SSGC 29.35 Increased By ▲ 0.94 (3.31%)
TELE 8.96 Increased By ▲ 0.27 (3.11%)
TPLP 12.82 Increased By ▲ 0.69 (5.69%)
TRG 60.40 Increased By ▲ 2.77 (4.81%)
UNITY 10.31 Increased By ▲ 0.60 (6.18%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.04 (3.23%)
مارکٹس

عارف حبیب نے توانائی کے بھاری اخراجات اور ٹیکسز کو سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دے دیا

  • شرح سود اور بجٹ خسارے میں کمی سے حکومتی مالیاتی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، چیئرمین عارف حبیب گروپ کا اعتراف
شائع اپ ڈیٹ

معروف کاروباری شخصیت اور عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان کو سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے توانائی کے بھاری اخراجات اور ٹیکسوں کے شدید بوجھ کو قابو کرنا ہوگا، کیونکہ پیداواری لاگت میں اضافہ مقامی اور غیر ملکی دونوں طرح کے سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عارف حبیب نے مزید کہا کہ اگرچہ حکومت کی معاشی سمت حوصلہ افزا ہے اور معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، لیکن اسٹرکچرل مسائل بالخصوص مہنگی بجلی اور ٹیکسز اب بھی پائیدار معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو ملکی اور غیر ملکی دونوں سطحوں پر نئی سرمایہ کاری راغب کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت کا زیادہ ہونا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بجلی کی قیمتیں خطے کی دیگر حریف معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔

اپنے خطاب کے دوران عارف حبیب نے نشاندہی کی کہ توانائی کی بلند قیمتوں نے پاکستانی مینوفیکچررز کی مسابقت کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ میرے خیال میں ہماری برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا۔

عارف حبیب نے کاروباری اداروں پر ٹیکس کے بھاری بوجھ کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ 29 فیصد کارپوریٹ انکم ٹیکس، 10 فیصد سپر ٹیکس اور دیگر لیویز مل کر مجموعی طور پر 50 سے 60 فیصد تک پہنچ جاتی ہیں ، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر توانائی کی لاگت اور ٹیکسوں میں کمی کی جائے تو میرا یقین ہے کہ ہم سرمایہ کاری کے لحاظ سے ملکی معیشت میں مثبت پیش رفت دیکھیں گے۔

عارف حبیب نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حالیہ سالوں میں شرح سود میں کمی اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے باعث حکومت کی مالیاتی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی بڑے پیمانے پر صنعتی صلاحیت موجود ہے لیکن کم طلب کی وجہ سے یہ کارخانے پوری صلاحیت سے کام نہیں کر پا رہے۔ اگر معاشی سرگرمیاں تیز ہوں تو موجودہ صنعتیں بغیر کسی نئی سرمایہ کاری کے اپنی پیداوار بڑھا سکتی ہیں۔

عارف حبیب نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان کے مجموعی معاشی ماحول میں مزید بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

Comments

200 حروف