سم کے اجرا میں خلاف ورزیاں، پی ٹی اے کا موبائل آپریٹرز پر 740 ملین روپے جرمانہ
- بارہا ہدایات کے باوجود آپریٹرز لازمی سبسکرائبر ویریفیکیشن کے تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے، ریگولیٹر
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سموں کے اجرا سے متعلق ضوابط کی بار بار خلاف ورزی پر ملک کی چاروں سیلولر موبائل کمپنیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 740 ملین روپے کے جرمانے عائد کردیے۔ پی ٹی اے نے ان آپریٹرز کو سمز کی غیر مجاز ایکٹیویشن اور بائیو میٹرک تصدیق و فرنچائز نیٹ ورکس کی نگرانی میں سنگین غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کی دفعہ 23 کے تحت جاری کردہ متعدد نفاذی احکامات کے مطابق چائنا موبائل پاکستان (زونگ) پر 155.6 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ جاز (پی ٹی ایم ایل)، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون (پی ٹی ایم ایل) میں سے ہر ایک کو متعدد خلاف ورزیوں پر بالترتیب 116.7 ملین، 116.7 ملین اور 116.7 ملین روپے کے جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا۔
پی ٹی اے نے یوفون پر دو الگ الگ مقدمات میں 77.8 ملین روپے اور 38.9 ملین روپے کے اضافی جرمانے بھی عائد کیے جس کے بعد چاروں موبائل آپریٹرز پر مجموعی جرمانوں کی مالیت تقریباً 740 ملین روپے تک پہنچ گئی۔
ریگولیٹر نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بارہا ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود موبائل آپریٹرز لازمی سبسکرائبر ویریفیکیشن کے تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے۔ پی ٹی اے کے مطابق یہ ہدایات غیر قانونی طور پر سموں کی فروخت اور شناختی فراڈ کی روک تھام کے لیے جاری کی گئی تھیں۔
نفاذی احکامات سے انکشاف ہوا کہ متعدد کیسز میں سمیں صارفین کے علم، رضامندی یا فزیکل موجودگی کے بغیر ان کے شناختی کارڈز پر جاری اور فعال کی گئیں جو کہ سبسکرائبر اینٹیسیڈنٹس ویریفیکیشن ریگولیشنز (صارفین کے کوائف کی تصدیق کے ضوابط) اور بائیو میٹرک تصدیق کو کنٹرول کرنے والے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انتہائی سنگین کیسز میں سے ایک میں پی ٹی اے نے پایا کہ چائنا موبائل پاکستان (زونگ) نے لاہور میں اپنی ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے صارف کی معلومات کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر سم جاری کر کے فعال کر دی۔ بعد ازاں کیے گئے ایک چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ، بائیو میٹرک ویریفیکیشن ڈیوائسز اور تقریباً 150 سمیں برآمد ہوئیں جو کہ سم کے اجرا میں بڑی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اتھارٹی نے کمپنی کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ متعلقہ سم نادرا کے بائیومیٹرک تصدیقی نظام کے ذریعے فعال کی گئی تھی۔ پی ٹی اے نے قرار دیا کہ صرف بائیومیٹرک تصدیق کا کامیاب ہونا آپریٹر کو اس قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا کہ وہ سم کے اجرا کو قانون کے مطابق یقینی بنائے اور اس بات کی تصدیق کرے کہ صارف کی حقیقی رضامندی بھی موجود ہے۔
ٹیلی نار پاکستان کو اس وقت جرمانہ کیا گیا جب پی ٹی اے نے پایا کہ ایک صارف کی رضامندی کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے سم جاری کی گئی تھی۔ تحقیقات کے دوران حکام نے فرنچائز کے احاطے سے بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز، لیپ ٹاپ اور سموں کا ذخیرہ برآمد کیا۔
پی ٹی اے نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ موبائل آپریٹرز یہ مؤقف اختیار کر کے ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ فرنچائزز انڈیپنڈنٹ کنٹریکٹرز کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق ٹیلی کام ضوابط کے تحت فروخت ہونے والی ہر سم کی قانونی ذمہ داری متعلقہ لائسنس یافتہ موبائل آپریٹر پر ہی عائد ہوتی ہے۔
یوفون کو اس وقت متعدد تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا جب تحقیقات میں اس کے سیلز نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پر غیر قانونی سموں کے اجرا کا انکشاف ہوا۔
ایک کیس میں چھاپوں کے دوران 12,600 سے زائد فعال سمیں برآمد ہوئیں جن کے ساتھ بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز اور دیگر آلات بھی ملے جو مبینہ طور پر سموں کی غیر قانونی ایکٹیویشن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ دیگر تحقیقات میں مختلف شہروں میں فرنچائز آؤٹ لیٹس کے ذریعے صارفین کی رضامندی کے بغیر سموں کی غیر مجاز ایکٹیویشن کے واقعات بھی سامنے آئے۔
پی ٹی اے نے پاکستان موبائل کمیونیکیشنز لمیٹڈ (جاز) پر سم کے اجرا اور بائیو میٹرک تصدیق سے متعلق ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزی کرنے پر 116.7 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا۔
پی ٹی اے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سموں کا اجرا اور ان کی ایکٹیویشن مقررہ ریگولیٹری حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی جس میں مجاز سیلز چینلز پر صارف کی فزیکل موجودگی کے ذریعے تصدیق شدہ رضامندی کا فقدان اور مجاز سیلز آؤٹ لیٹس اور بائیو میٹرک ویریفیکیشن سسٹم ڈیوائسز کے استعمال پر ناکافی نگرانی اور تعمیل شامل ہے۔
ریگولیٹر نے نشاندہی کی کہ تعمیل کے تفصیلی طریقہ کار کی موجودگی کے باوجود، آپریٹرز فرنچائزز اور ریٹیلرز کی مؤثر نگرانی برقرار رکھنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے بار بار خلاف ورزیاں ہوئیں۔
پی ٹی اے نے کہا کہ آپریٹرز لائیو فنگر ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی اور بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز پر جیو فینسنگ کنٹرولز کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے میں بھی ناکام رہے، یہ حفاظتی اقدامات شناخت کی چوری، بائیو میٹرک اسپوفنگ (جعلی بائیو میٹرک ڈیٹا) اور غیر مجاز سم ایکٹیویشن کو روکنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔
اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی سموں کا اجرا ٹیلی کام صارفین کو شناخت کی چوری، سائبر فراڈ، مالیاتی جرائم اور ٹیلی مواصلاتی انفرااسٹرکچر کے غلط استعمال کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ لائسنس یافتہ آپریٹرز اپنے مجاز سیلز چینلز کے ذریعے جاری ہونے والی ہر سم کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔
تمام آپریٹرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے اوپر عائد جرمانے جمع کرائیں۔ پی ٹی اے نے تنبیہ کی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو قانون کے تحت مزید قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔


Comments