آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، خام تیل ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
- برینٹ خام تیل کے فیوچر 1.68 ڈالر یا 2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو مزید 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی ہے، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر 1.68 ڈالر یا 2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.65 ڈالر یا 2.1 فیصد اضافے کے بعد 79.79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 9.6 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا تھا، جو مئی 2020 کے بعد سب سے بڑا یومیہ اضافہ تھا۔
یہ قیمتیں 17 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی جنوبی گزرگاہ میں عمانی سمندری حدود کے اندر دو اماراتی آئل ٹینکروں کو ایران کے دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے ایرانی جہاز رانی کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جن ممالک کے مفادات کا امریکا تحفظ کر رہا ہے، انہیں اس کے اخراجات بھی ادا کرنے چاہییں۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز بھی فضائی حملے کیے گئے، جبکہ ایرانی خبر رساں ادارے وائی جے سی کے مطابق بندر عباس میں سات اور جزیرہ کیش پر دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسی دوران یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملے کیے اور الزام عائد کیا کہ سعودی عرب نے ان کے زیرِ کنٹرول ایک ہوائی اڈے پر بمباری کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز یا بحیرہ احمر میں تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں کمی جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔


Comments