سیکیورٹی خدشات، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی
- اتوار کو صرف چھ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، کیپلر
شپنگ ڈیٹا کے مطابق اتوار کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت کئی ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات نے سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔
کیپلر کے مطابق اتوار کو صرف چھ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جو گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ایک دن میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے کم تعداد ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے روانہ ہونے والے ٹینکرز میں ہیومینٹی نامی ایک انتہائی بڑا خام تیل بردار جہاز بھی شامل تھا جس پر تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لدا ہوا تھا جبکہ کیپٹن اینڈریاس نامی ایک اور ٹینکر تقریباً 5 لاکھ بیرل کویتی پٹرولیم مصنوعات لے کر روانہ ہوا۔ اس کے برعکس تین خالی ٹینکر خام تیل لوڈ کرنے کے لیے خلیج میں داخل ہوئے۔ زیادہ تر ٹینکرز نے آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت اپنے ٹرانسپونڈرز (شناختی سگنلز) بند رکھے جس سے ان کی نقل و حرکت کی نگرانی محدود ہو گئی۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ویک اینڈ کے دوران آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والا کوئی بھی ایل این جی ٹینکر دکھائی نہیں دیا۔
کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ایک ٹینکر 10 جولائی سے 12 جولائی کے درمیان آبنائے ہرمز سے نکلا۔ یہ جہاز بھارت کی دہیز بندرگاہ کی طرف جا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا کہ امریکی افواج نے اتوار کو ایران کے خلاف حملوں کی ایک اور لہر مکمل کرتے ہوئے مختلف مقامات پر درجنوں اہداف کو انتہائی درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں (پریسیژن میونیشنز) سے نشانہ بنایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہے، اگرچہ ایران نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایک بحری جہاز کی جانب سے غیر منظور شدہ راستہ اختیار کرنے اور اس پر حملہ ہونے کے بعد آبنائے کو بند کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو کہا کہ اس کی بحریہ نے گزشتہ رات آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کے سسٹمز بند کر کے انہیں روک لیا تاہم ان جہازوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔


Comments