مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود ایل این جی اور جاپانی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے لگے
- کم از کم پانچ خالی ایل این جی ٹینکر حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے ہیں
مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے باوجود مائع قدرتی گیس لے جانے والے مزید ٹینکروں نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنا دوبارہ شروع کر دیا ہے، جبکہ جاپان نے بتایا ہے کہ منگل سے اب تک جاپان سے منسلک 22 بحری جہاز خلیج سے روانہ ہو چکے ہیں۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کپلر اور ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم پانچ خالی ایل این جی ٹینکر حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے ہیں۔ ان میں یونانی شپنگ کمپنی گیس لاگ کے زیر انتظام گیس لاگ شنگھائی اور قطر انرجی سے منسلک جہاز السمریہ، الدفنا، القطّارا اور الراّیان شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گیس لاگ شنگھائی اور الراّیان نے غالباً 9 جولائی کی رات آبنائے ہرمز عبور کی، جبکہ دیگر تین قطری جہاز چند ہفتے قبل بھارت کے مغربی ساحل کے قریب دیکھے گئے تھے۔
دوسری جانب جاپان کے وزیرِ ٹرانسپورٹ یاسوشی کانیکو نے بتایا کہ 7 سے 9 جولائی کے دوران جاپان سے منسلک 22 بحری جہاز، جن میں چھ بڑے خام تیل بردار ٹینکر بھی شامل تھے، آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج سے نکل گئے۔ اب خلیج میں صرف چار جاپانی جہاز موجود ہیں۔
جاپانی شپ اونرز ایسوسی ایشن کے مطابق تنازع کے آغاز پر خلیج میں جاپان سے منسلک 45 جہاز اور تقریباً 1,100 عملہ موجود تھا، جو اب کم ہو کر صرف چار جہاز اور تقریباً 100 افراد پر مشتمل عملے تک محدود رہ گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں اور اس کے جواب میں امریکی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔


Comments