ایران جنگ اور گرین لینڈ تنازع کے سائے میں انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کا آغاز
- ٹرمپ نے ایران جنگ، گرین لینڈ اور یورپی دفاعی اخراجات کے معاملے پر ایک بار پھر اتحادیوں پر تنقید کی ہے
نیٹو کے یورپی رہنما بدھ کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوجی اتحاد سے اپنی وابستگی برقرار رکھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے، جبکہ ٹرمپ نے ایران جنگ، گرین لینڈ اور یورپی دفاعی اخراجات کے معاملے پر ایک بار پھر اتحادیوں پر تنقید کی ہے۔
منگل کو انقرہ پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ان کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ذاتی دوستی نہ ہوتی تو وہ ممکنہ طور پر اس اجلاس میں شرکت نہ کرتے۔ انہوں نے یورپ سے مزید امریکی فوجیوں کے انخلا کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
اجلاس سے قبل نیٹو نے یورپی اتحادیوں کی جانب سے دفاعی اخراجات میں اضافے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کم از کم 50 ارب ڈالر مالیت کے نئے دفاعی معاہدوں کا اعلان کیا، تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ یورپی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ نیٹو سے انتہائی مایوس ہیں کیونکہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران اتحادیوں نے واشنگٹن کا بھرپور ساتھ نہیں دیا۔ ان کا الزام تھا کہ کئی یورپی ممالک نے امریکی افواج کو اپنی فضائی حدود اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، تاہم یورپی حکام نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔
صدر ٹرمپ نے اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایران کے معاملے پر تعاون نہ کرنے سے دونوں رہنماؤں کے تعلقات متاثر ہوئے، اگرچہ انہوں نے میلونی کو اچھی شخصیت بھی قرار دیا۔ دوسری جانب ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے ٹرمپ کے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اتحادیوں کو ڈنمارک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔
نیٹو کے 32 رکن ممالک کے سفیروں نے سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کی منظوری دے دی ہے، جس میں اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ براعظم کی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہیں، تاہم وہ امریکہ کے ساتھ منظم اور متوقع تعاون کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی بھی دفاعی خلا سے روس فائدہ نہ اٹھا سکے۔


Comments