عالمی معیشت کے نظم و نسق چلانے والے ادارے اور بااثر طاقت ور حلقے
- عالمی مالیاتی ڈھانچہ دراصل اداروں، سرمایہ اور اثرورسوخ کے ایسے مربوط نظام پر قائم ہے جو معاشی اور سیاسی رجحانات کو شکل دیتا ہے۔
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے قرض کی سہولتوں کے لیے عائد کی جانے والی شرائط قرض لینے والے ممالک میں شدید معاشی مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ فنڈ ٹیکس وصولیوں میں اضافے، بلند شرحِ سود اور سرکاری اخراجات میں کمی پر زور دیتا ہے۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں عموماً غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ، نیز سرمایہ کاری میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ ان معاشی مشکلات کے ردعمل میں آئی ایم ایف کو عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عصرِ حاضر کے عالمی مالیاتی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے اس نظام میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کردار کا تعین ضروری ہے۔ موجودہ عالمی مالیاتی ڈھانچے کے بنیادی ستون آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، فنانشل اسٹیبلٹی بورڈ (ایف ایس بی) اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) ہیں۔ ان چار اداروں کو اس ڈھانچے کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایف آئیز)، خودمختار ویلتھ فنڈز (سورین ویلتھ فنڈز) اور بڑے نجی سرمایہ کار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، مشترکہ حصصی کمپنیوں کے حصص یا بانڈز میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے طویل المدتی قرضوں اور لیکویڈیٹی کے انتظام کے لیے قلیل مدتی قرضوں کی صورت میں سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔
انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اور بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ، یعنی جی 8 اور جی 20، اس مالیاتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور عالمی مالیاتی نظام میں انہیں قیادت اور سمت متعین کرنے والی قوتیں سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ریٹنگ ایجنسیوں اور مشاورتی و نگرانی کرنے والے اداروں، جن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) بھی شامل ہے، کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ قرض فراہم کرنے والے ادارے اور انفرادی و ادارہ جاتی سرمایہ کار ریٹنگ ایجنسیوں اور مشاورتی اداروں کے جائزوں کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ یہی بااثر اشرافیہ، اثر و رسوخ رکھنے والے گروہ اور فیصلہ کن ادارے ایک ملک سے دوسرے ملک تک سرمایہ کے بہاؤ کا رخ متعین کرتے ہیں۔
موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد رسد پر مبنی معاشی پالیسیوں (سپلائی سائیڈ پالیسیز) پر استوار ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت بنیادی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی ترقی، مسابقتی صلاحیت میں اضافہ، وسائل کا مؤثر استعمال، استعداد کار میں بہتری، عالمگیریت، آزاد تجارت، کاروبار میں جدت اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو جیسے اصولوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔
رسد پر مبنی پالیسیاں معیشت کی ممکنہ پیداواری صلاحیت (پوٹینشل آؤٹ پٹ) میں اضافے کی حمایت کرتی ہیں، تاہم آئی ایم ایف کی پالیسیاں اور سفارشات ممکنہ معاشی شرحِ نمو کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔ اس کے برعکس، فنڈ طلب کے انتظام (ڈیمانڈ مینجمنٹ) کی پالیسیوں پر زور دیتا ہے، جن میں زیادہ تر سفارشات شرحِ مبادلہ کے نظام، شرحِ سود میں ردوبدل، ٹیکس وصولیوں میں اضافے، اور سبسڈیز و انتقالی ادائیگیوں (ٹرانسفر پیمنٹس) یعنی پنشن اورسماجی امداد میں کمی سے متعلق ہوتی ہیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (یعنی اشیا اور خدمات کی درآمدات، اور بیرونی قرضوں پر غیر ملکی کرنسی میں سود کی ادائیگی) کے انتظام کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل کیا جانے والا قرض مختصر مدتی بیرونی مالی وسائل کے اہم ذرائع میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قرض یا کریڈٹ سہولت عالمی مالیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آئی ایم ایف اپنے رکن ممالک کو یہ سہولت اس لیے فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں قرض نادہندگی (ڈیفالٹ) سے محفوظ رہیں۔ اس سہولت کا بنیادی مقصد بین الاقوامی معاشی بحرانوں کو دوسرے ممالک تک پھیلنے سے روکنا ہے۔ ادائیگیوں کے توازن ( بیلنس آف پیمنٹس) میں خسارہ معاشی اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ آئی ایم ایف قرض معاہدوں کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجوہات کا جائزہ لیتا ہے، اور اگر یہ کمی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہو تو ان میں تبدیلی کی سفارش کرتا ہے۔
آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کو ادارے کا اعلیٰ ترین اختیاری فورم حاصل ہے، تاہم عملی طور پر یہ بورڈ اپنے بیشتر اختیارات ایگزیکٹو بورڈ کو منتقل کر دیتا ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ قرض کی شرائط اور پالیسی سفارشات کا حتمی تعین کرتا ہے اور مالیاتی بحران سے دوچار ممالک کے لیے قرضوں کی منظوری دینے کا مجاز ہے۔
آئی ایم ایف کے 24 ایگزیکٹو ڈائریکٹرز میں سے امریکہ، جاپان، چین، جرمنی، فرانس، برطانیہ، روس اور سعودی عرب براہِ راست آٹھ ڈائریکٹرز (ہر ملک ایک) نامزد کرتے ہیں، جبکہ باقی 16 ڈائریکٹرز مختلف ممالک پر مشتمل 16 گروپوں (کانسٹیچیونسیز) کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بورڈ کے ارکان کے انتخاب اور قرضوں کی منظوری میں ووٹنگ کا اختیار مختلف ممالک کی جانب سے فنڈ میں کیے گئے مالی تعاون کے تناسب سے طے ہوتا ہے۔ ہر ملک کے حصے کا تعین عالمی معیشت میں اس کے معاشی حجم کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس، چین، روس، بھارت اور برازیل کے پاس مشترکہ طور پر ورلڈ بینک میں 50 فیصد جبکہ آئی ایم ایف میں 47 فیصد ووٹنگ کا اختیار ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ کی صدارت منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کرتے ہیں، جو آئی ایم ایف کے عملے کے سربراہ بھی ہوتے ہیں۔ ایک تاریخی روایت کے مطابق آئی ایم ایف کا منیجنگ ڈائریکٹر ہمیشہ یورپ سے جبکہ ورلڈ بینک کا صدر ہمیشہ امریکہ سے منتخب ہوتا آیا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ آئی ایم ایف کے مالی وسائل کا بڑا حصہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک فراہم کرتے ہیں، جبکہ اس فنڈ سے زیادہ تر وہ ترقی پذیر ممالک مستفید ہوتے ہیں جو لیکویڈیٹی بحران کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم کریڈٹ سہولتوں کی منظوری میں عالمی سیاسی تعلقات بھی ایک اہم عنصر ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی کریڈٹ سہولتیں براہِ راست کرنٹ اکاؤنٹ خسارے یا حکومت کی کارکردگی سے منسلک نہیں ہوتیں۔ 2024 میں آئی ایم ایف کے 114 ارب ڈالر کے واجب الادا قرضوں میں سے 68 فیصد سے زیادہ صرف 10 ممالک کو فراہم کیے گئے تھے۔
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) اور ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) بھی اس عالمی مالیاتی ڈھانچے کا حصہ ہیں اور ملکی وسائل کے مؤثر استعمال اور مسابقتی صلاحیت کے فروغ کے ذریعے آزاد تجارت کے نظام کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ادارے رسد پر مبنی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ڈبلیو ٹی او ٹیرف میں کمی یا ان کے خاتمے اور غیر ٹیرف تجارتی رکاوٹوں (نان ٹیرف میژرز/این ٹی ایمز) کو ختم کرنے کو اپنی بنیادی حکمتِ عملی قرار دیتا ہے۔
رسد پر مبنی معاشی فلسفے کے مطابق اس حکمتِ عملی سے صارفین کو معیاری مصنوعات مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔ اس کا مقصد غیر مسابقتی صنعتوں کے تحفظ کے لیے حکومت کی غیر ضروری مداخلت کے ذریعے صارفین کے استحصال کا خاتمہ کرنا ہے۔ البتہ غیر ملکی صنعتوں کی ڈمپنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریگولیٹری اور اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز عارضی طور پر عائد کرنے، اور ملکی صنعتوں کو اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے محدود مدت تک تحفظ فراہم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، انتظامی بنیادوں پر مقرر کی جانے والی شرحِ مبادلہ، رعایتی قرضے اور ٹیکس میں چھوٹ کو آزاد تجارت کے منافی پالیسیاں تصور کیا جاتا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کو عالمی حکمرانی کی قوتوں اور معاشی اشرافیہ کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس فورم کی بنیاد یورپی کمیشن اور یورپی صنعتی ایسوسی ایشن کی سرپرستی میں یورپی کاروباری رہنماؤں کے ایک گروپ نے رکھی تھی۔ یہ سوئس حکومت کی نگرانی میں کام کرتا ہے، تاہم اس کی رکنیت ان کمپنیوں پر مشتمل ہے جو عالمی معیشت کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس فورم کی رکن کمپنی عموماً ایک ایسی عالمی کاروباری کمپنی ہوتی ہے جس کا سالانہ کاروبار پانچ ارب ڈالر سے زیادہ ہو اور جو اپنے شعبے یا ملک کی صفِ اول کی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہو۔ فورم نے سنٹر فار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس بھی قائم کیا ہے، جو کاروباری اداروں، سول سوسائٹی اور حکومتی حلقوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
جی 20 بین الاقوامی مالیاتی اصلاحات کا منصوبہ، واٹر انیشی ایٹو، عرب بزنس کونسل، بدعنوانی کے خلاف شراکت داری کے لیے صنعتی اقدامات، گلوبل کمپیٹیٹو نیس نیٹ ورک، گلوبل رسک نیٹ ورک، اسٹریٹجک فارسائٹ پروگرام اور مختلف علاقائی منصوبے اسی فورم کے تحت چلنے والے اقدامات ہیں، جو عالمی نظام کی تشکیلِ نو میں اس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔
بین الاقوامی کارپوریشنز (ٹرانس نیشنل کارپوریشنز) اور عالمی تجارتی تنظیمیں بھی عالمی مالیاتی ڈھانچے، معاشی پالیسیوں اور سیاسی رجحانات کی تشکیلِ نو میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تجارتی تنظیمیں کاروباری اداروں اور پالیسی سازوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتی ہیں اور مختلف صنعتی شعبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دیتی ہیں۔ قومی معیشت اور ترقی کے ڈھانچے کی تشکیل میں ملٹی نیشنل کمپنیوں (ایم این سیز) کی طاقت اور کردار کسی سے پوشیدہ نہیں، تاہم چیمبرز آف کامرس کے کردار اور طریقۂ کار پر عوامی سطح پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ عالمی معیشت اور سماجی و سیاسی تبدیلیوں کی تشکیلِ نو میں ان تنظیموں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
عالمی پالیسی سازی میں تجارتی تنظیموں کے کردار اور اثر و رسوخ پر متعدد ممتاز بین الاقوامی ماہرین اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔ مغربی ممالک کے بعض معروف ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ دنیا کی تشکیلِ نو میں چیمبرز آف کامرس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کئی ممالک میں چیمبرز آف کامرس پارلیمان کے ایوانِ بالا یا سینیٹ کے ارکان کے انتخابی ادارے (الیکٹورل کالج) کے طور پر بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں سینیٹ کے ارکان کی نامزدگی بھی انہی چیمبرز کے ذریعے کی جاتی رہی ہے۔ قومی چیمبرز آف کامرس ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے قیام، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، بین الاقوامی کمپنیوں کے انضمام اور حصول (مرجرز اینڈ ایکویزیشنز)، غیر ملکی کمپنیوں کے بورڈز اور اعلیٰ انتظامیہ میں شمولیت، تجارت کے فروغ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ جمع کرنے کی سرگرمیوں کے آغاز میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
چیمبرز آف کامرس کے حقیقی اثر و رسوخ کو سمجھنے کے لیے صرف تجارت ہی نہیں بلکہ تعلیم، ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، صحت، مواصلات، محنت کشوں کے امور اور حکومت پر ان کے اثرات کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ چیمبرز کی قیادت کے حق میں دو نعرے خاص طور پر مقبول ہوئے: ”عالمی تجارت کے ذریعے عالمی امن“ اور ”حکومت میں کاروباری سوچ زیادہ، اور کاروبار میں حکومتی مداخلت کم“۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ چیمبرز آف کامرس سیاسی رجحانات اور عالمی معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں، یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ الگ تھلگ اداروں کے طور پر کام نہیں کرتے بلکہ مقامی، قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے سے مربوط نیٹ ورک کی صورت میں منظم ہوتے ہیں۔
غربت، بے روزگاری، ناخواندگی، ماحولیاتی مسائل، عدم تحفظ اور ثقافتی تنازعات جیسے مسائل کو انسانی بے چینی اور جنگوں کی بنیادی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان سماجی و معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ (یواین او) نے متعدد ذیلی اور وابستہ ادارے قائم کیے، جن میں اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (یواین سی ٹی اے ڈی)، اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم (یواین آئی ڈی او)، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی)، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او)، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او)، اقوام متحدہ کا ادارۂ اطفال (یواین آئی سی ای ایف/یونیسیف)، اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او)، اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم (یواین ای ایس سی او/یونیسکو)، ورلڈ بینک اور دیگر کثیرالجہتی ادارے شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے نظام میں اقتصادی و سماجی کونسل (ای سی اوایس اوسی) اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس (آئی سی سی) کو اہم ترین مشاورتی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کو عالمی معاشی پالیسیوں اور سیاسی رجحانات کے تعین میں ایک مؤثر اور بااثر ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں شہرت رکھنے والی کتاب ’’مرچنٹس آف پیس: دی ہسٹری آف دی انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس‘‘ کے مصنف جارج رج وے نے اقوام متحدہ، انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اور امریکی چیمبر آف کامرس کے باہمی تعلقات کی وضاحت کی ہے۔ ان کے مطابق: ”انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کی کوششوں کے نتیجے میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوام متحدہ وجود میں آئی۔ اس کے بعد انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اقوام متحدہ کے نظام کا ایک اہم ترین مشاورتی ادارہ بن گیا۔ بڑی فلاحی تنظیموں، خصوصاً کارنیگی فاؤنڈیشن فار انٹرنیشنل پیس اور راک فیلر فاؤنڈیشن، بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں، بین الاقوامی کارپوریشنز، بالخصوص آئی بی ایم، ممتاز جامعات، خصوصاً ہارورڈ اور کولمبیا، نیز معروف ماہرینِ معاشیات اور عمرانیات نے اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے ساتھ چیمبر کے اشتراک کی حمایت کی۔“
رج وے کے مطابق، آج تقریباً تمام قومی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کسی نہ کسی صورت میں، براہِ راست یا بالواسطہ، ای سی او ایس او سی سے منسلک ہیں، خواہ یہ وابستگی شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔ اس طرح انہیں انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس سے رہنمائی ملتی ہے، جسے اقوام متحدہ میں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ رج وے کا کہنا ہے کہ مقامی اور قومی چیمبرز کے بیشتر عہدیدار خود بھی اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔
اپنے وسیع دائرۂ اختیار اور مقامی چیمبرز و تجارتی انجمنوں کے ساتھ تنظیمی روابط کی بدولت، قومی چیمبرز آف کامرس اپنے ممالک کے کاروباری شعبے کی علاقائی اور بین الاقوامی چیمبرز میں نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس سے وابستہ ہوتے ہیں اور کم و بیش تمام قومی چیمبرز بین الاقوامی معاشی پالیسیوں سے متعلق مکالموں میں شریک ہوتے ہیں۔ امریکی چیمبر آف کامرس کی طرح قومی اور علاقائی چیمبرز بھی عالمی سطح پر مربوط معیشت میں پالیسی سازی اور معاشی نظم و نسق میں کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگرچہ مقامی چیمبرز کی نمائندگی اپنی جگہ اہم ہے، تاہم قومی اور علاقائی چیمبرز کا کردار اس سے مختلف اور تنظیمی درجہ بندی میں کہیں زیادہ بلند ہوتا ہے۔ تمام قومی چیمبرز مخصوص تکنیکی مہارت رکھنے والی مستقل اور عارضی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہیں، جن کا مقصد عوامی پالیسیوں کی حمایت اور ان پر اثرانداز ہونا ہوتا ہے۔
امریکی چیمبر آف کامرس اقوام متحدہ سے بھی قدیم ادارہ ہے اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کے قیام کو فروغ دینے والوں میں شامل رہا ہے۔ چیمبر اپنے کردار کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ”انفرادی آزادی، ترغیب، پہل کاری، مواقع اور ذمہ داری پر مبنی معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کے ذریعے انسانی ترقی کو آگے بڑھانا۔“
چیمبر کا کردار اور اس کا طریقۂ کار اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ سماجی، سیاسی اور معاشی رجحانات کے تعین میں کس قدر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ چیمبر کے عملے میں پالیسی ماہرین، لابنگ کے ماہرین اور وکلا شامل ہوتے ہیں، جبکہ امریکہ میں یہ کسی بھی دوسری لابنگ تنظیم کے مقابلے میں سب سے زیادہ اخراجات کرنے والے اداروں میں شمار ہوتا ہے۔


Comments