BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.33%)
KSE100 Decreased By (-0.64%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 57.00 Decreased By ▼ -1.79 (-3.04%)
BIPL 26.82 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 35.00 Decreased By ▼ -0.38 (-1.07%)
CNERGY 8.16 Decreased By ▼ -0.04 (-0.49%)
DFML 19.35 Decreased By ▼ -0.42 (-2.12%)
DGKC 220.88 Decreased By ▼ -1.06 (-0.48%)
FABL 97.50 Increased By ▲ 0.59 (0.61%)
FCCL 57.51 Decreased By ▼ -0.85 (-1.46%)
FFL 17.66 Decreased By ▼ -0.18 (-1.01%)
GGL 23.69 Increased By ▲ 0.15 (0.64%)
HBL 289.80 Decreased By ▼ -4.30 (-1.46%)
HUBC 227.88 Decreased By ▼ -3.53 (-1.53%)
HUMNL 10.90 Decreased By ▼ -0.17 (-1.54%)
KEL 8.56 Decreased By ▼ -0.19 (-2.17%)
LOTCHEM 27.54 Decreased By ▼ -0.53 (-1.89%)
MLCF 106.59 Decreased By ▼ -0.56 (-0.52%)
OGDC 334.00 Decreased By ▼ -5.96 (-1.75%)
PAEL 44.95 Increased By ▲ 0.46 (1.03%)
PIBTL 18.28 Decreased By ▼ -0.36 (-1.93%)
PIOC 270.00 Decreased By ▼ -3.85 (-1.41%)
PPL 243.50 Decreased By ▼ -4.48 (-1.81%)
PRL 34.91 Decreased By ▼ -0.38 (-1.08%)
SNGP 118.55 Decreased By ▼ -4.62 (-3.75%)
SSGC 30.75 Decreased By ▼ -1.29 (-4.03%)
TELE 8.69 Decreased By ▼ -0.18 (-2.03%)
TPLP 10.22 Decreased By ▼ -0.35 (-3.31%)
TRG 63.15 Decreased By ▼ -1.25 (-1.94%)
UNITY 10.81 Decreased By ▼ -0.31 (-2.79%)
WTL 1.25 Decreased By ▼ -0.01 (-0.79%)
رائے

صوبوں کے بجٹ

  • چاروں صوبوں کی ایک مشترکہ کمزوری یہ رہی کہ انہوں نے زرعی آمدنی پر ٹیکس (اے آئی ٹی) ایسی سطح پر نافذ نہیں کیا جو تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کے کسی حد تک بھی مساوی ہو
  • اگر وفاق کی توجہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنانے پر مرکوز ہو، تو پے در پے آنے والی حکومتوں کو درپیش شدید مالی وسائل کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے
شائع June 29, 2026 اپ ڈیٹ June 29, 2026 04:14pm

وفاقی اور صوبائی بجٹوں کے درمیان تعلق جیسا کہ مئی 2026 میں جاری پروگرام کے تیسرے جائزے سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی دستاویزات میں طے کیا گیا ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صوبائی ٹیکس محصولات کے اہداف ایسے مقرر کیے جائیں کہ ٹیکس محصولات اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب میں 0.3 فیصد پوائنٹس کا اضافی حصہ شامل ہو، اور اسی کے مطابق پرائمری سرپلس کے اہداف بھی حاصل کیے جائیں۔

مالی سال 2026-27 کے لیے برائے نام مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ 452 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس بنیاد پر صوبوں کا متوقع حصہ 1.356 ارب ڈالر، یا اگلے مالی سال کے لیے ایک ڈالر کے 290 روپے کے متوقع زرِ مبادلہ کی شرح کے حساب سے تقریباً 398 ارب روپے بنتا ہے۔

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ”صوبے خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے مؤثر نفاذ کا دائرہ مسلسل اور ثابت قدمی سے وسیع کرتے ہوئے اسے بتدریج معیشت کے تمام شعبوں تک پھیلائیں گے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔ زرعی آمدنی پر نئے ٹیکس کی شرحیں مالی سال 2026 کی زرعی آمدنی پر لاگو ہوں گی، تاہم ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا اثر مالی سال 2027 میں ظاہر ہوگا۔ صوبوں نے ملکی محصولات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ خدمات پر جی ایس ٹی کے دائرۂ کار میں توسیع اور ٹیکس وصولی کے مؤثر نفاذ کے باعث صوبائی ٹیکس محصولات میں اضافہ برائے نام جی ڈی پی کی شرح نمو سے خاصا زیادہ رہا ہے۔ تاہم زرعی آمدنی پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی نظرثانی شدہ شرحوں کے نفاذ میں تاخیر اور عملدرآمد سے متعلق دیگر مشکلات کے باعث توقعات سے کم رہی۔“

اس ضمن میں دو نکات نہایت اہم ہیں۔ اول، 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے صوبے آج تک مطلوبہ انتظامی صلاحیت پیدا نہیں کر سکے، حالانکہ ان شعبوں پر وفاقی بجٹ کے اخراجات ختم ہونا تھے۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی بنیاد پر 2010 کے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر 57.5 فیصد کیا گیا تھا۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مسلسل اس ہدف کے حصول میں ناکام رہا ہے کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں ہر سال ایک فیصد اضافہ کیا جائے، جس سے وفاق اپنی اخراجاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ محصولات حاصل کر سکتا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2009-10 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.9 فیصد تھا، جو 2025 تک معمولی اضافے کے ساتھ 11.2 فیصد تک پہنچا، جبکہ 2025-26 کے لیے اس کا تخمینہ 11.1 فیصد لگایا گیا ہے۔

2010 کے بعد سے اقتدار میں آنے والی تینوں بڑی قومی جماعتوں کی حکومتوں نے، اندرونِ ملک بھاری قرض لینے اور جب بھی جاری کھاتوں کا خسارہ ناقابلِ برداشت سطح پر پہنچا تو 2008، 2013، 2019، 2023 اور 2024 میں آئی ایم ایف کے پروگراموں سے رجوع کرنے کے علاوہ، اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو اہم ذرائع آمدن پر انحصار کیا۔ ان میں پہلا صوبائی سرپلس ہے، جو 2010-11 میں 150 ارب روپے سے بڑھ کر 2026-27 کے بجٹ میں 1.79 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرا ذریعہ پیٹرولیم لیوی ہے، جسے دیگر ٹیکسز کے خانے میں رکھا گیا ہے، حالانکہ یہ درحقیقت سیلز ٹیکس ہے اور اسے ایف بی آر کے سیلز ٹیکس کے ذیلی خانے میں شامل ہونا چاہیے تھا، جبکہ قابلِ تقسیم محاصل میں بھی اس کا حصہ نہیں رکھا گیا۔

2010-11 کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے 135 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم حقیقی وصولی 82.75 ارب روپے رہی۔ اس کے برعکس 2026-27 کے بجٹ میں اس مد سے 1.67 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ”پیٹرولیم مصنوعات پر مؤثر ٹیکس کی شرح 166 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث حکومتی محصولات کا انحصار بڑی حد تک ایندھن پر عائد ٹیکسوں پر ہے اور یہ کسی بھی بیرونی جھٹکے سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔“

دلچسپ امر یہ ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ تشکیل دینے والی سیاسی جماعتیں، عمران خان کے دورِ حکومت کے ساڑھے تین برسوں کو چھوڑ کر، 2010 سے مسلسل اقتدار میں رہی ہیں۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے تقریباً ہر مذاکرات میں ان کا مؤقف یہی رہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی تاکہ صوبوں کے حصے میں کمی کی جا سکے۔

بعض مبصرین اس طرزِ فکر کی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے ایسے ٹیکنوکریٹس کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا جنہیں اٹھارویں ترمیم کے پس منظر یا اس سے وابستگی حاصل نہیں تھی۔ تاہم اسحاق ڈار، جنہوں نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے قبل پنجاب کی نمائندگی کی اور اپنی جماعت کی قیادت کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے، وہ بھی نجی اور عوامی سطح پر متعدد بار ایف بی آر کے محصولات کی زیادہ منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد بھی وقفے وقفے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ محصولات کی تقسیم میں توازن پیدا کیا جائے، خواہ اس کے لیے آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کا حصہ کم کیا جائے، جس کا فیصلہ، وزیرِ خزانہ کے مطابق آئندہ سال تک مؤخر کر دیا گیا ہے، یا پھر صوبوں کے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔

اپریل 2026 میں وزیرِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی جانب سے دستخط شدہ لیٹر آف انٹینٹ میں کہا گیا ہے کہ ”تمام صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ کوئی ایسی پالیسی یا اقدام اختیار نہیں کریں گے جسے اس خط یا اس کے ساتھ منسلک معاشی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشتوں میں درج وعدوں اور پالیسیوں کے منافی یا انہیں کمزور کرنے والا سمجھا جائے۔“

وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی صوبائی سرپلس 1.79 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ پنجاب نے 910 ارب روپے سرپلس کا تخمینہ لگایا ہے، جو اس کی مجموعی صوبائی وصولیوں 749 ارب روپے سے بھی زیادہ ہے اور قابلِ تقسیم محاصل میں اس کے 51.74 فیصد حصے سے بھی تجاوز کرتا ہے۔ پنجاب نے خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف بھی نظرثانی شدہ 363 ارب روپے سے بڑھا کر 521 ارب روپے مقرر کیا ہے، جو 44 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔

اس کے برعکس سندھ نے 36.9 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، تاہم خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف 2025-26 کے نظرثانی شدہ 362 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 456 ارب روپے رکھا ہے، جو 26 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ نسبتاً حقیقت پسندانہ سمجھے جانے والے اس ہدف کے باعث یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا پنجاب کا 44 فیصد اضافہ حاصل کرنا واقعی ممکن ہوگا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا نے 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ 57 ارب روپے سے بڑھا کر آئندہ مالی سال میں 80 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو 40 فیصد اضافے کے مساوی ہے۔

بلوچستان کا بجٹ تاحال متعلقہ محکمے کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا گیا، اس لیے خدمات پر ٹیکس وصولیوں کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

چاروں صوبوں کی ایک مشترکہ کمزوری یہ رہی کہ انہوں نے زرعی آمدنی پر ٹیکس (اے آئی ٹی) ایسی سطح پر نافذ نہیں کیا جو تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کے کسی حد تک بھی مساوی ہو۔ پنجاب نے آئندہ مالی سال کے لیے اس مد میں محض 12.5 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا ہے، جبکہ رواں مالی سال میں 3.99 ارب روپے وصول ہوئے، حالانکہ بجٹ میں 10.5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

سندھ نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 8 ارب روپے کا ہدف رکھا تھا، لیکن نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق صرف 2 ارب روپے ہی وصول ہو سکے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے وصولیوں کا ہدف 6 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق زرعی آمدنی پر ٹیکس کی وصولی صرف 13 کروڑ روپے رہی، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے یہ ہدف بڑھا کر 16 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔

بلوچستان کے حوالے سے اس ضمن میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

مندرجہ بالا حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی بجٹ کی طرح صوبوں کا انحصار بھی بالواسطہ ٹیکسوں پر بڑھتا جا رہا ہے، حالانکہ ان ٹیکسوں کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ دوسری جانب، اپنی اپنی انتخابی حلقوں میں سیاسی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے مخصوص شعبوں کو سبسڈیز بھی دی جا رہی ہیں، جبکہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے گریز کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا اطلاق صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے 80 فیصد سے زائد ارکان پر بھی ہوگا۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر وفاق کی توجہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنانے پر مرکوز ہو، تو پے در پے آنے والی حکومتوں کو درپیش شدید مالی وسائل کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف