پاکستان اور ایران تعلقات کے نئے دور میں داخل ہوں گے، وزیراعظم شہباز شریف
- وزیراعظم کی امریکا ایران معاہد ہ میں کامیاب ثالثی پر قوم، سیاسی اور عسکری قیادت کو مبارکباد
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جس میں پاکستان نے اہم ثالثی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اسے غیر معمولی قومی اعزاز کا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی عالمی سطح پر بہتر ہوتی ہوئی حیثیت کا ثبوت ہے۔
مفاہمی یادداشت پر بطور ثالث اپنے الیکٹرانک دستخط کے ایک دن بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سفارتی عمل میں پاکستان کے کردار کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ اس معاہدے کے بعد پاکستان اور ایران اقتصادی تعاون کے پھیلاؤ، مضبوط دوطرفہ تعلقات اور وسیع تر علاقائی خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔
شہباز شریف نے اراکین کو بتایا کہ پاکستان کو ایسا وقار اور مقام عطا ہوا ہے جو اقوام صدیوں میں بھی حاصل نہیں کر پاتیں، انہوں نے سیاسی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد کو سیاسی تقسیم پر فوقیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا بین الاقوامی قد کاٹھ ایک نازک موڑ پر بہتر ہوا ہے اور انہوں نے ایک متحد قومی پیغام دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کی تقریر کا ایک بڑا حصہ ان کوششوں پر مرکوز رہا جنہیں انہوں نے سفارتی عمل کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سویلین قیادت، فوجی اداروں اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مربوط کاوشوں سے تعبیر کیا۔
انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ڈھائی ماہ تک مسلسل شمولیت اور کوششوں کا کریڈٹ دیا اور کہا کہ ان کی یہ کاوشیں مذاکرات کو اس وقت بھی جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوئیں جب ان کے ناکام ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
شہباز شریف نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، صوبائی حکومتوں، اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن اراکین کے کردار کا بھی اعتراف کیا اور اس کوشش کو ایک اجتماعی قومی اقدام قرار دیا۔
انہوں نے صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو اس مشکل سفارتی دور میں ان کی خدمات اور تعاون پر مبارکباد پیش کی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کی شام 30 منٹ کی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پاکستان کے کردار کا براہِ راست اعتراف کیا اور پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر پزشکیان کو اسلام آباد کے دورے کی دعوت دی ہے اور ایرانی صدر نے جلد از جلد موقع ملنے پر اس پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
شہباز شریف نے اراکین کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان کو جولائی کے اوائل میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، پاکستان ایران کی قیادت اور عوام کے احترام کے پیش نظر اس میں شرکت کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو امریکہ، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور چین سمیت متعدد بین الاقوامی اداکاروں کی جانب سے بھی پذیرائی ملی ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کی کہ انہوں نے ان مذاکرات میں سہولت فراہم کی، جس کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان دشمنی کا مستقل خاتمہ ہوا۔


Comments