امریکہ ایران جنگ بندی کا امکان، برینٹ خام تیل کریش، ہفتہ وار خسارہ 8 فیصد سے متجاوز
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز معمولی ردوبدل کے بعد 79.78 ڈالر فی بیرل پر برقرار
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کواستحکام دیکھا گیا، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات مدہم پڑنے اور لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی کے باعث یہ اب بھی 8 فیصد سے زائد کے ہفتہ وار خسارے کی زد میں ہے۔
عالمی وقت کے مطابق صبح 08:20 بجے برینٹ کروڈ فیوچرز معمولی ردوبدل کے بعد 79.78 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے جولائی کے سودے تقریباً 1 ڈالر یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 77.59 ڈالر، جبکہ اگست کے سودے 13 سینٹ اضافے کے ساتھ 75.98 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔
سوئٹزرلینڈ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے، کیونکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے، جس سے مستقل جنگ بندی کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔ کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹیرر کا کہنا ہے کہ تاجر صورتحال کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں اور انہیں شک ہے کہ یہ معاہدہ کتنی جلدی اثر دکھائے گا۔ ان کے مطابق قیمتوں میں مزید کمی کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بحالی کے شواہد درکار ہوں گے اور برینٹ کی قیمتیں فی الحال 75 سے 90 ڈالر کے درمیان رہ سکتی ہیں۔
گزشتہ روز امریکہ اور ایران کے صدور کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے سعودی عرب کے تین ٹینکرز سمیت متعدد جہازوں کے گزرنے پر تیل کی قیمتیں مارچ کے بعد کم ترین سطح پر آ گئی تھیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے خلیجِ فارس میں پھنسا ہوا 85 ملین بیرل سے زائد تیل عالمی منڈی میں آ جائے گا۔ اگرچہ دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی سپلائی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے، مگر بینکوں کا کہنا ہے کہ سپلائی کی مکمل بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
سٹی بینک کے مطابق 60 فیصد امکان ہے کہ اگلے 6 سے 12 ماہ میں تیل کی سپلائی معمول پر آ جائے گی اور 2027 کی پہلی سہ ماہی تک قیمتیں گر کر 60 سے 65 ڈالر فی بیرل تک آ سکتی ہیں۔ اوپیک کی 2026 کی عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں تیل کی طلب 2025 میں 105.1 ملین بیرل سے بڑھ کر 2030 تک 113.3 ملین بیرل یومیہ ہو جائے گی۔ ادھر عراق کے وزیرِ پٹرولیم عاصم محمد نے بھی تصدیق کی ہے کہ عراقی آئل فیلڈز دوبارہ پیداوار کے لیے تیار ہیں اور سپلائی جلد معمول پر آ جائے گی۔ تاہم لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے جاری حملوں نے اس امن معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔


Comments