BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.24%)
KSE100 Decreased By (-0.52%)
KSE30 Decreased By (-0.46%)
BAFL 56.80 Decreased By ▼ -0.07 (-0.12%)
BIPL 24.93 Decreased By ▼ -0.03 (-0.12%)
BOP 30.10 Decreased By ▼ -0.25 (-0.82%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 93.75 Decreased By ▼ -0.39 (-0.41%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.46 Decreased By ▼ -0.26 (-1.77%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 305.55 Decreased By ▼ -0.55 (-0.18%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.31 Decreased By ▼ -0.15 (-0.57%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -1.76 (-1.89%)
OGDC 314.30 Decreased By ▼ -2.43 (-0.77%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.48 (-1.35%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.47 Decreased By ▼ -4.44 (-1.96%)
PRL 90.90 Decreased By ▼ -2.12 (-2.28%)
SNGP 90.75 Decreased By ▼ -1.09 (-1.19%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.30 Decreased By ▼ -0.26 (-0.46%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
کاروبار اور معیشت

ضبط شدہ سامان کی نیلامی آؤٹ سورس کرنے کی کسٹمز تجویز منظور

  • منظوری سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں دی گئی
شائع اپ ڈیٹ

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فنانس بل 2026 کے تحت ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا عمل تھرڈ پارٹی (نجی شعبے) کو آؤٹ سورس کرنے کی کسٹمز تجویز کی منظوری دے دی گئی۔ ایف بی آر حکام کا مؤقف تھا کہ نیلامی کا کام کسٹمز افسران کے بجائے نجی شعبے کو کرنا چاہیے۔

اجلاس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال کیانی اور سینیٹر شیری رحمان سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہر سال بجٹ میں نئے تجربات کیے جاتے ہیں اور گزشتہ دس سالوں میں کی گئی کئی تبدیلیاں بعد میں واپس لی گئیں۔ انہوں نے درآمدی سامان کی کلیئرنس کے لیے ایک مقررہ وقت طے کرنے کی تجویز کی حمایت کی۔

دورانِ اجلاس ایف بی آر حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ رکھنے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے سپر ٹیکس کی وجہ سے سرمایہ کاری میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ، جبکہ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی ٹیکس وصولی ایف بی آر سے بہتر ہو رہی ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو کسٹمز قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرنے کا اختیار دینے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے یہ اختیار وفاقی وزیرِ خزانہ کے پاس برقرار رکھنے کی تائید کی۔

Comments

200 حروف