امریکہ ایران معاہدے پر اتوار کو دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، ٹرمپ
- ایران نے ہفتے کی صبح ایک مختلف ٹائم لائن پیش کی تھی، تاہم اس کے باوجود معاہدے کے امکان کا اشارہ دیتے ہوئے یہ ظاہر کیا کہ مذاکرات طے پانے کے قریب ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اتوار کو دستخط کے لیے طے ہے، اور اس کے فوراً بعد اسٹریٹجک آبنائے ہرمز ”سب کے لیے کھول دی جائے گی۔“
ایران نے ہفتے کی صبح ایک مختلف ٹائم لائن پیش کی تھی، تاہم اس کے باوجود معاہدے کے امکان کا اشارہ دیتے ہوئے فریقینِ جنگ اور ثالثوں نے بڑھتی ہوئی امید ظاہر کی کہ ہفتوں سے جاری تعطل کا شکار مذاکرات اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
اس نئی پیش رفت کو اس کے باوجود رفتار ملی کہ آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپیں ہوئیں، جسے ایران نے جنگ کے آغاز سے ہی بند کر رکھا ہے، اور اس اقدام نے عالمی منڈیوں کو ہلچل میں ڈال دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا: ”معاہدے پر کل دستخط طے ہیں، اور جیسے ہی یہ معاہدہ دستخط ہو جائے گا، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔“
8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے، جس نے لڑائی کے بدترین مرحلے کو وقتی طور پر روک دیا تھا، ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے، تاہم مذاکراتی کشمکش مسلسل طول پکڑتی رہی ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ دستخط کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، تاہم ”یہ کل نہیں ہوگا۔“
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”آنے والے دنوں میں ایسا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔“
اہم ثالث ملک پاکستان کے سربراہ نے بھی کہا تھا کہ معاہدہ ”اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب“ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق ” اسے حتمی شکل دینا غالباً آئندہ 24 گھنٹوں میں متوقع ہے، اس کے فوراً بعد پاکستان الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ آئندہ ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔“
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ دستخط اتوار کو طے ہیں۔
تاہم فریقینِ جنگ معاہدے کے مندرجات کے بارے میں متضاد معلومات دیتے رہے ہیں، کیونکہ ہر فریق یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ جنگ سے برتر حیثیت میں نکلا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ڈرونز
تہران نے اصرار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا، جو خلیج سے تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے۔
ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد ایران نے جہازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی افواج سے اجازت لے کر اس آبی گزرگاہ سے گزریں، اور اس کی نگرانی کے لیے ایک نیا ادارہ بھی قائم کیا ہے جو ٹیکس/ٹول وصول کرتا ہے۔
امریکا نے اس کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ایران نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد یک طرفہ حملہ آور ڈرونز بھیجے، تاہم امریکی فورسز نے انہیں راستے ہی میں مار گرایا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ریاستی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ زیرِ غور معاہدے میں امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی شق شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”آبنائے ہرمز کا انتظام اب پہلے جیسا نہیں رہے گا“ اور اسے ایران کا ایک اہم دفاعی ذریعہ قرار دیا۔
امریکا کا موقف ہے کہ ایران کا اس آبنائے پر کنٹرول برقرار رہنا ناقابلِ قبول ہے، جبکہ ٹرمپ کی پوسٹ میں ٹولز یا دیگر انتظامات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
’جوہری باقیات‘
مذاکرات میں ایک اور اہم تنازع ایران کے جوہری پروگرام اور خاص طور پر انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل ہے، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ گزشتہ برس امریکی حملوں کے دوران دفن ہو گیا تھا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور اسے افزودگی کا حق حاصل ہے، جبکہ امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک اسے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش سمجھتے ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ افزودہ یورینیم کے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ اسے ایران کے اندر ہی کمزور (اثر یا شدت کم) کیا جائے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اس یورینیم کو نکال کر تباہ کرے گا۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ”جب حالات معمول پر آئیں گے تو ہم ’نیوکلیئر ڈسٹ‘ کو حاصل کر کے اسے ختم اور کمزور کریں گے، چاہے وہ ایران میں ہو یا امریکا میں۔“
انہوں نے کہا کہ اگر یہ عمل تیزی اور آسانی سے نہ ہوا تو ”ہمارے پاس آخری متبادل موجود ہے، جسے امید ہے دوبارہ کبھی استعمال نہ کرنا پڑے۔“
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی معاہدے میں افزودہ جوہری مواد کی منتقلی شامل ہوگی۔
تہران کی سڑکوں پر البتہ اس معاہدے کے بارے میں شکوک و شبہات پائے گئے۔
49 سالہ سعید صادقی نے کہا کہ ”مجھے نہیں لگتا کہ کوئی معاہدہ جلد ہونے والا ہے، مجھے ان کی بات پر اعتماد نہیں۔“
شہر تونکیابن کے ایک شخص علی نے کہا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو، عوام کو نقصان ہی ہوگا:
”دونوں صورتوں میں عوام کے مفاد میں کچھ نہیں۔ اگر معاہدہ ہو بھی گیا تو حکمران عوام کو مزید سختی سے دبائیں گے۔“


Comments