صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری، دفتر خارجہ
- صومالیہ کے وزیرِ خارجہ کی مکمل تعاون کی یقین دہانی
ترجمانِ دفترِ خارجہ طاہر اندرا بی نے جمعرات کو میڈیا کو پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی صورتحال اور بیرونِ ملک پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر بریفنگ دی۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے تصدیق کی کہ صومالی قزاقوں نے پاکستانی شہریوں کو یرغمال بنا لیا ہے اور بتایا کہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس معاملے پر صومالیہ کے وزیرِ خارجہ سے باضابطہ رابطہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صومالیہ کے وزیرِ خارجہ نے پاکستان کو مغوی شہریوں کی بحفاظت رہائی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستانی شہریوں کو تقریباً 50 دنوں سے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش میں متعلقہ مال بردار جہاز (کارگو ویسل) کے مالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے،تاہم صورتحال کی انتہائی پیچیدہ نوعیت کے باعث اب تک کی پیش رفت محدود رہی ہے۔
طاہر اندرا بی نے واضح کیا کہ یرغمالیوں کی یہ صورتحال خاص طور پر انتہائی حساس ہے کیونکہ اس کا تعلق ایک نیم خودمختار، قبائلی علاقے سے ہے جہاں متعدد فریقین (عوامل) سرگرم ہیں، جس کی وجہ سے مذاکرات کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود پاکستانی شہریوں کی حفاظت اور جلد از جلد رہائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یرغمالی ایک ایسے مال بردار جہاز پر سوار ہیں جس پر دیگر کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے عملے کے اراکین بھی موجود ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے دو روز قبل صومالیہ کے وزیرِ خارجہ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں انہوں نے نہ صرف پاکستانی شہریوں بلکہ دیگر مغویوں کی صورتحال کو بھی بہتر بنانے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔ پاکستان نے اس معاملے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں متعین صومالیہ کے سفیر کو بھی طلب کر کے پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا ہے جبکہ اس معاملے پر پیش رفت حاصل کرنے کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی تیار کرنے کی خاطر دفترِ خارجہ میں بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے طاہر اندرا بی نے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ اسلام آباد خطے میں بڑھتی کشیدگی پر شدید فکر مند ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے کی صورتِ حال کے حوالے سے پرُامید ہے اور اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرتا آیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اس معاملے پر سفارتی کوششوں میں مسلسل مصروف عمل رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام فریقین کو جنگ بندی کی پاسداری کرنی چاہیے اور بات چیت و مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی حمایت کرنی چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کے حالات کو برابر قرار دینا غلط اور گمراہ کن ہے۔ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ قراردادوں کے مؤقف پر قائم ہے۔


Comments