آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، امریکی وزیر توانائی
- ایران پر رواں سال فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت بڑی حد تک متاثر اور محدود رہی
امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باوجود آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں ”نمایاں اضافہ“ ہو رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ ایک یا دو ہفتے قبل کے مقابلے میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت کی صورتحال کیا ہے، رائٹ نے کہا، ”میں کہوں گا کہ اس میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔“
انہوں نے یہ بات اٹلانٹک کونسل کی ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی اور کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی توانائی کی ترسیل کو معمول پر آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بڑی حد تک معطل رہی، جس سے دنیا بھر میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد رسد متاثر ہوئی۔ تاہم بعد ازاں بعض جہازوں نے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنا دوبارہ شروع کر دیا، جن میں سے کئی نے اپنے ٹرانسپونڈر بند رکھے اور رات کی تاریکی میں سفر کیا۔
توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس نے مختلف معیشتوں کو متاثر کیا اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی چیلنج بھی پیدا کر دیا۔
واشنگٹن تہران کے ساتھ ایسے امن معاہدے کے لیے کوششیں کر رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کر کے بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے۔


Comments