اہم شعبوں میں سرمایہ کاری، ایس آئی ایف سی کے سعودی وفد سے مذاکرات
- اس بات چیت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے
اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل (جے بی سی) کے چیئرمین شہزادہ منصور کی سربراہی میں آنے والا اعلیٰ سطح سعودی وفد پاکستان کی معیشت کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون کو تیز کرنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ وزارتِ توانائی کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس بات چیت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق، 4 اور 5 جون 2026 کو ہونے والے اس دورے کے دوران حکومت سے حکومت (جی ٹو جی)، حکومت سے کاروبار (جی ٹو بی) اور کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) سطح پر متعدد ملاقاتیں اور سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں بنیادی ڈھانچے، توانائی، زراعت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ایس آئی ایف سی سیکریٹریٹ نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے اپنے منصوبوں کی تفصیلی تجاویز، پریزنٹیشنز اور تکنیکی معلومات تیار رکھیں۔
وفد کی سرگرمیوں کا آغاز 4 جون کو پاکستانی اور سعودی کاروباری شخصیات کے تعارفی اجلاس سے ہوا، جس میں جوائنٹ بزنس کونسل کے نمائندوں اور دیگر اعلیٰ سعودی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کے ممتاز کاروباری رہنماؤں نے سعودی وفد سے ملاقات کی جبکہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے۔
پہلے روز متعدد متوازی سیشنز کا انعقاد کیا گیا، جن میں بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس کے اہم شعبوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ موٹروے منصوبوں، جن میں ایم-6، ایم-10 اور ایم-13 شامل ہیں، کے ترقیاتی مواقع پر وزارتِ مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی شرکت سے گفتگو کی گئی۔
اسی دوران کراچی کی بندرگاہوں کی توسیع کے منصوبوں پر بھی الگ اجلاس ہوئے، جن میں وزارتِ بحری امور، کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)، پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) اور گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کے اعلیٰ حکام نے سعودی سرمایہ کاروں کو ترقیاتی اور آپریشنل مواقع سے آگاہ کیا۔
ایک اور سیشن میں ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے، ان کی ترقی اور آپریشنز سے متعلق سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، جس میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور ہوا بازی کے دیگر حکام شریک ہوئے۔
زراعت کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع زیر غور آئے، خصوصاً گوشت اور چاول کی پراسیسنگ کے شعبوں میں۔ ان مذاکرات میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ، فوجی فاؤنڈیشن اور اس سے وابستہ اداروں نے شرکت کی۔
دورے کے دوسرے روز (آج) توجہ پالیسی فریم ورک اور شعبہ وار سرمایہ کاری کے روڈ میپس پر مرکوز رہے گی۔ ایک اہم اجلاس میں حکومت سے حکومت اور حکومت سے کاروبار کے ایسے مشترکہ تصوراتی روڈ میپ پر غور کیا جائے گا، جس کے تحت پاکستان کے مختلف منصوبوں کو سعودی اور پاکستانی سرکاری و نجی شعبے کے مشترکہ پبلک پرائیویٹ کنسورشیمز کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
توانائی کے شعبے میں تعاون بھی اس دورے کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں بجلی اور پیٹرولیم سے متعلق منصوبوں پر خصوصی اجلاس ہوں گے۔ بجلی کے شعبے میں ٹرانسمیشن لائنوں اور اسمارٹ میٹرنگ منصوبوں پر بات چیت کی جائے گی، جس میں وفاقی وزیرِ توانائی، سیکریٹری پاور اور سعودی حکام شرکت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم سیکٹر کے مذاکرات میں گیس میٹرنگ کے علاوہ کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی زیر بحث آئیں گے۔ ان اجلاسوں میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم و قدرتی وسائل اور سیکریٹری پیٹرولیم شریک ہوں گے۔
رئیل اسٹیٹ اور سیاحت سے منسلک سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا، جس کے لیے ہوٹلوں اور پراپرٹی ڈویلپمنٹ سے متعلق اجلاس منعقد ہوں گے۔ ان میں وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے نمائندے شریک ہوں گے۔
توقع ہے کہ اس دورے کا اختتام پاکستان۔سعودی جوائنٹ بزنس کونسل کے بزنس ٹو بزنس اجلاس پر ہوگا، جہاں دونوں ممالک کے نجی شعبے کے نمائندے آئندہ منصوبوں میں شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے، جو پاک۔سعودی تجارتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments