مالی سال 2027 : جی ڈی پی شرح نمو 4 فیصد تک بڑھانے کا عزم
- متوقع جی ڈی پی شرح نمو زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی بہتر کارکردگی کے باعث حاصل ہونے کی توقع
پاکستان نے آئندہ مالی سال معاشی شرح نمو (جی ڈی پی گروتھ ریٹ) 4 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے جو مالی سال 2026 میں متوقع 3.7 فیصد شرح نمو سے زیادہ ہے جبکہ ملک ایک جانب مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث خام تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں (شاک) سے نمٹ رہا ہے اور دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کے تحت بھی ہے۔
ٹاپ لائن ریسرچ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ تخمینوں کے مطابق متوقع جی ڈی پی شرح نمو زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی بہتر کارکردگی کے باعث حاصل ہونے کی توقع ہے۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق زرعی شعبہ ترقی کا ایک اہم محرک بن کر ابھرے گا، جہاں مالی سال 2027 میں شرح نمو 3.8 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ مالی سال 2026 میں یہ 2.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
امید ظاہر کی جارہی ہے کہ یہ بہتری اہم فصلوں کی پیداوار میں زبردست واپسی (ری باؤنڈ) کے باعث ہوگی جہاں شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جو اختتام پذیر ہونے والے (موجودہ) مالی سال میں محض 0.6 فیصد تھی۔ لائیواسٹاک کا شعبہ جو زراعت میں اب بھی سب سے بڑا حصہ دار ہے، اس میں بھی 3.9 فیصد کی مستحکم ترقی متوقع ہے جو مالی سال 2026ء کے 3.8 فیصد سے معمولی زیادہ ہے۔
صنعتی شعبے میں بھی تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کی شرح نمو مالی سال 2026ء کے تخمینہ شدہ 3.5 فیصد کے مقابلے میں مالی سال 2027ء میں بڑھ کر 4 فیصد ہو جائے گی۔ تاہم اس کے ذیلی شعبوں میں ترقی ناہموار رہنے کی توقع ہے۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ جس کی شرح نمو مالی سال 2026ء میں 6.1 فیصد رہنے کی پیشگوئی ہے، مالی سال 2027ء میں سست ہو کر 4.5 فیصد پر آنے کا امکان ہے جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی متوقع ہے جو 5.7 فیصد سے گھٹ کر 2.2 فیصد رہ جائیں گی۔
دوسری جانب خدمات کے شعبے میں مالی سال 2026ء کے 4.1 فیصد کے مقابلے میں مالی سال 2027ء میں 4.2 فیصد کی شرح نمو متوقع ہے۔
خدمات کے شعبے میں ہول سیل اور ریٹیل تجارت کی شرح نمو 3.7 فیصد سے بڑھ کر 4.2 فیصد ہونے کی توقع ہے جبکہ انفارمیشن اور کمیونیکیشن کا شعبہ معیشت کے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شامل رہنے کا امکان ہے جہاں مالی سال 2027 میں شرح نمو 7.7 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جو مالی سال 2026 میں 7.5 فیصد تھی۔


Comments