BR100 Decreased By (-0.15%)
BR30 Decreased By (-0.5%)
KSE100 Decreased By (-0.12%)
KSE30 Decreased By (-0.13%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.31 (0.55%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.27 Decreased By ▼ -0.08 (-0.26%)
CNERGY 13.04 Decreased By ▼ -0.08 (-0.61%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 190.40 Decreased By ▼ -2.05 (-1.07%)
FABL 94.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.61 Decreased By ▼ -0.18 (-0.34%)
FFL 14.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.95%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.30 Increased By ▲ 0.20 (0.07%)
HUBC 200.92 Decreased By ▼ -0.50 (-0.25%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.45 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
MLCF 92.61 Decreased By ▼ -0.55 (-0.59%)
OGDC 315.44 Decreased By ▼ -1.29 (-0.41%)
PAEL 35.31 Decreased By ▼ -0.32 (-0.9%)
PIBTL 14.70 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
PIOC 242.11 Decreased By ▼ -1.10 (-0.45%)
PPL 223.60 Decreased By ▼ -3.31 (-1.46%)
PRL 92.40 Decreased By ▼ -0.62 (-0.67%)
SNGP 91.98 Increased By ▲ 0.14 (0.15%)
SSGC 23.70 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
TELE 7.80 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.72 Decreased By ▼ -0.25 (-1.93%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

یکم جولائی سے ٹیکس چھوٹ ختم، متعلقہ اشیا اور شعبوں پر ٹیکس نافذ ہوگا

  • الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے شعبے کو حاصل کئی ٹیکس مراعات بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو رہی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس چھوٹوں میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی، جس کے نتیجے میں یکم جولائی 2026 سے تمام متعلقہ شعبے، اشیا اور صنعتی ان پٹس ٹیکس کے دائرے میں آ جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی یونٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ان تمام ٹیکس مراعات اور استثنیٰ کا جائزہ لیا ہے جو رواں مالی سال کے اختتام پر ختم ہو رہے ہیں۔ حکومت کو ٹیکس چھوٹ، رعایتی شرحوں، زیرو ریٹنگ، درآمدی مراعات اور خصوصی ٹیکس سہولتوں کی مد میں مالی سال 2024-25 کے دوران 5,840.2 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جو گزشتہ مالی سال کے 3,879.2 ارب روپے کے مقابلے میں 1,961 ارب روپے زیادہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق قبائلی علاقوں (فاٹا اور پاٹا) کو حاصل متعدد ٹیکس استثنیٰ بھی 30 جون 2026 کے بعد ختم ہو جائیں گے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت قبائلی علاقوں کے رہائشی افراد، کمپنیوں اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کو حاصل انکم ٹیکس استثنیٰ میں مزید توسیع کا امکان نہیں ہے۔

اسی طرح فاٹا اور پاٹا میں درآمدات اور صنعتی سپلائز پر مرحلہ وار سیلز ٹیکس نافذ کرنے کے منصوبے کے تحت سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان علاقوں کے لیے دی گئی ٹیکس چھوٹ کا بعض اوقات غلط استعمال کیا گیا، جس سے دیگر علاقوں میں قائم صنعتی یونٹس کو مسابقتی نقصان پہنچا۔

دوسری جانب الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے شعبے کو حاصل کئی ٹیکس مراعات بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو رہی ہیں۔ مقامی مینوفیکچررز کی جانب سے درآمد کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈٰ کٹس، کم بیٹری صلاحیت والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس، اور ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی شرحیں مقررہ مدت کے بعد ختم ہو جائیں گی، تاہم آٹو سیکٹر کے لیے آئندہ ٹیکس پالیسی کا فیصلہ آٹو پالیسی کے تحت کیا جائے گا۔

مزید برآں قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی، مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز اور بعض دیگر شعبوں کو حاصل سیلز ٹیکس استثنیٰ بھی 30 جون 2026 کے بعد ختم ہونے جا رہا ہے، جس سے آئندہ مالی سال میں حکومتی محصولات میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف