وزیر اعظم نے ملک میں فضلے سے توانائی کی پالیسی بنانے کے لیے ٹاسک فورس کی منظوری دے دی
- پاکستان نے قومی سطح پر ویسٹ ٹو انرجی پالیسی کی تیاری کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس قائم کر دی
- مقصد ملک بھر میں کچرے کے مؤثر انتظام اور متبادل توانائی کی پیداوار کو فروغ دینا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں متبادل توانائی کے فروغ اور کچرے کے مؤثر انتظام کے لیے ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں سے متعلق قومی پالیسی کی تیاری کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق ٹاسک فورس ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کے موجودہ فریم ورک کا جائزہ لے گی اور واضح حکمتِ عملی، ادارہ جاتی نظام اور عملدرآمد کے روڈ میپ پر مشتمل جامع قومی پالیسی تیار کرے گی۔
حکومت کے مطابق اس پالیسی میں نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی اور ملک بھر میں ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں میں سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری ٹاسک فورس کے کنوینر ہوں گے۔
ٹاسک فورس میں وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، موسمیاتی تبدیلی اور بین الصوبائی رابطہ ڈویژنز کے وفاقی سیکریٹریز کے علاوہ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے بلدیات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی محکموں کے سیکریٹریز بھی شامل ہوں گے۔
نجی شعبے کے نمائندوں کو بھی ٹاسک فورس کا حصہ بنایا گیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ٹاسک فورس ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں سے متعلق عالمی بہترین طریقہ کار کا جائزہ لے گی اور پاکستان میں اس شعبے کی ترقی میں حائل قانونی، ضابطہ جاتی، مالیاتی اور آپریشنل رکاوٹوں کی نشاندہی کرے گی۔
ٹاسک فورس کی شرائطِ کار میں ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کے فروغ کے لیے قانون سازی اور ضابطہ جاتی اصلاحات کی تجاویز دینا بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ یہ ادارہ متعلقہ فریقین کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور ملک میں ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گا۔


Comments