ایران جنگ بندی میں غیریقینی صورتحال اور ٹرمپ کا دورہ چین، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
- برینٹ کروڈ کے سودے 1.22 ڈالر یا 1.1 فیصد کی کمی سے 106.55 ڈالر فی بیرل پر آگئے
خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو کمی ریکارڈ کی گئی جس سے گزشتہ تین دنوں سے جاری تیزی کا سلسلہ تھم گیا۔ سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ میں نازک جنگ بندی سے متعلق پیشرفت کے منتظر ہیں اور ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان چین میں ہونے والی اہم ترین سربراہی ملاقات کیلئے بھی تیار ہیں۔
برینٹ کروڈ کے سودے 1.22 ڈالر یا 1.1 فیصد کی کمی سے 106.55 ڈالر فی بیرل پر آگئے، اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودوں میں 1.16 ڈالر یا 1.1 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی جس کے بعد اس کی قیمت 101.02 ڈالر ہوگئی۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز اور تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کیے جانے کے بعد سے تیل کی قیمتیں بڑی حد تک 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس یا اس سے اوپر ہی رہی ہیں۔
فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے کہا کہ سپلائی میں تعطل کے خدشات اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھے ہوئے ہے حالانکہ تاجر مارکیٹ کی واضح سمت کا تعین کرنے کے لیے تگ و دو کررہے ہیں۔
سچدیوا نے مزید کہا کہ مارکیٹ خطے سے آنے والی ہر خبر پر شدید ردعمل ظاہر کررہی ہے جس کا مطلب ہے کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ کشیدگی میں مزید اضافہ یا سپلائی کی روانی کو براہِ راست کوئی بھی خطرہ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں میں تیزی کے رجحان کو دوبارہ بیدار کرسکتا ہے۔
منگل کو تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جس سے گزشتہ تیزی کے سلسلے کو مزید تقویت ملی۔ اس اضافے کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان دیرپا جنگ بندی کی امیدوں کا دم توڑ جانا ہے جس سے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی کل ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے باوجود چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ صدر ٹرمپ جمعرات اور جمعہ کو بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
یوریشیا گروپ نے کلائنٹس کے لیے جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا ہے کہ سپلائی میں تعطل کا طویل دورانیہ اور بڑے پیمانے پر ہونے والا نقصان جو پہلے ہی ایک ارب بیرل سے تجاوز کر چکا ہے ظاہر کرتا ہے کہ تیل کی قیمتیں سال کے بقیہ حصے میں 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت، امریکی معیشت پر اپنے اثرات مرتب کرنا شروع کردیے ہیں کیونکہ تیل کی بلند قیمتوں کے باعث ایندھن مہنگا ہو گیا ہے اور ماہرینِ معاشیات کو خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آئیں گے۔
اپریل کے دوران امریکہ میں صارفین کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے مہینے تیزی سے اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں مہنگائی کی سالانہ شرح تقریباً تین سالوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس صورتحال نے ان توقعات کو مزید تقویت دی ہے کہ فیڈرل ریزرو فی الوقت شرحِ سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا۔
کیپیٹل اکنامکس نے کلائنٹس کے لیے جاری ایک نوٹ میں کہا ہے کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں مہنگائی میں نمایاں اضافے کے باوجود ابھی تک حقیقی اخراجات میں کمی نہیں آئی لیکن صارفین کے گرتے ہوئے اعتماد اور ملازمتوں کے کم ہوتے ہوئے مواقع مستقبل میں بدتر حالات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
شرحِ سود میں اضافہ قرضوں کو مزید مہنگا بنا دیتا ہے جس سے تیل کی طلب میں کمی کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔


Comments