حکومت ورلڈ بینک کے سی پی ایف پر عملدرآمد کیلئے صوبوں کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہے، احد چیمہ
- ورلڈ بینک پاکستان کو 10 سالہ ترقیاتی فریم ورک کے تحت 20 ارب ڈالر فراہم کرے گا جس کا ایک اہم مقصد بچوں میں غذائی قلت اور نشوونما کی کمی کا خاتمہ ہے
وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے اہداف کو مؤثر طریقے سے حاصل کرنے کے لیے تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہی ہے۔جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار سے ملاقات کے دوران کیا۔
اس گفتگو کا محور سی پی ایف کے اہم نتائج تھے، جو کہ پاکستان کے لیے مالی سال 2026 سے 2035 تک کا ایک 10 سالہ فریم ورک ہے، جس کے تحت ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی پروگراموں کے لیے 20 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی جائے گی۔ ملاقات میں ان پروگراموں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن کا مقصد پینے کے صاف پانی، صفائی کے بہتر نظام، صحت کی بہتر سہولیات اور مناسب غذا کی فراہمی کے ذریعے بچوں میں نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کے مسئلے کو کم کرنا ہے۔
ملاقات میں ماحولیاتی لچک کو بھی نمایاں اہمیت دی گئی، جس میں سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات کے اثرات کو کم کرنے اور پانی و زراعت کے باہمی تعلق کے تناظر میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بیان کے مطابق صاف اور پائیدار توانائی کے نظام کی طرف منتقلی اور ہوا کے معیار میں بہتری کو بھی ترجیحی شعبہ قرار دیا گیا۔
احد چیمہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ تمام شعبے وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور وفاقی حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتیں اس منصوبے پر عملدرآمد اور اس کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ دونوں فریقین نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے ذریعے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور پائیدار معاشی ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے ورلڈ بینک گروپ کے مسلسل تعاون کو سراہا اور پالیسیوں کے تسلسل اور اصلاحات کے مؤثر نفاذ کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ بولورما امگابازار نے پاکستان کی طویل مدتی ترقی کے لیے ورلڈ بینک کی حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ مسلسل کوششوں سے ملک میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔


Comments