ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی، پینٹاگون چیف پیٹ ہیگستھ کا دعویٰ
- ہم جانتے ہیں کہ ایرانی اس حقیقت پر شرمندہ ہیں، امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی جبکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں خلیج میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ نے اس اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے راستہ کامیابی سے محفوظ بنا لیا ہے اور سینکڑوں تجارتی جہاز وہاں سے گزرنے کے لیے قطار میں لگے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن اس وقت آبنائے ہرمز پر ایرانی قبضے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا دعویٰ ایران نے 28 فروری کو تنازع شروع ہونے کے بعد سے کر رکھا ہے۔
پینٹاگون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایرانی اس حقیقت پر شرمندہ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ان کے کنٹرول میں ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ”پروجیکٹ فریڈم“ نامی مہم کے تحت پھنسے ہوئے ٹینکرز کو راستہ فراہم کرنے کے لیے بحریہ بھیجے جانے کے بعد اس نے ایران کی چھ چھوٹی کشتیاں ڈبو دیں اور ایرانی کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
پیر کے روز خلیج میں کئی تجارتی جہازوں نے دھماکوں اور آتشزدگی کی اطلاع دی تھی، جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایک آئل پورٹ، جہاں امریکہ کا بڑا فوجی اڈہ موجود ہے، ایرانی میزائلوں سے آگ کی لپیٹ میں آگیا۔
جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بتایا کہ 7 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے ایران نے 9 بار تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اور دو کنٹینر بحری جہازوں پر قبضہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے 10 سے زائد مرتبہ امریکی افواج پر حملے کیے ہیں۔ تاہم جنرل کین نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ حملے فی الحال اس حد سے کم ہیں جہاں سے دوبارہ بڑی جنگی کارروائیوں کا آغاز کیا جائے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، ہیگستھ نے جواب دیا کہ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا ہم نے کہا تھا کہ ہم دفاع کریں گے اور جارحانہ انداز میں کریں گے اور ہم نے بالکل ایسا ہی کیا ہے۔ ایران یہ جانتا ہے اور آخر کار صدر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا کسی بھی چیز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے صورتحال کو مزید آگے بڑھایا جائے یا نہیں۔
یہ آپریشن صدر ٹرمپ کی وہ تازہ ترین کوشش ہے جس کا مقصد ایران کی جانب سے آبنائے کی ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی توانائی کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا ہے۔ واضح رہے کہ جنگ سے قبل دنیا کا پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی اسی راستے سے سپلائی کیا جاتا تھا۔ امریکی بحریہ اس وقت ایران کی بحری ناکہ بندی بھی کر رہی ہے، جو کسی بھی جہاز کو ایران جانے یا ایرانی حدود سے باہر نکلنے سے روکتی ہے۔


Comments