جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں جہاز میں آگ لگنے کی تحقیقات کرے گا
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آگ ایرانی حملے کا نتیجہ تھی
سیول نے منگل کے روز کہا ہے کہ حکام آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے ایک جہاز پر ہونے والے دھماکے اور آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کریں گے، جس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایرانی حملے کا نتیجہ تھا۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ واقعے کی اصل وجہ کا تعین اس وقت کیا جائے گا جب جہاز کو کھینچ کر قریبی بندرگاہ پر لایا جائے گا اور اس کے نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
پاناما کے پرچم والے اس کارگو جہاز کو جنوبی کوریا کی شپنگ کمپنی ایچ ایم ایم چلا رہی تھی۔ جہاز خالی حالت میں لنگر انداز تھا جب پیر کے روز اس میں دھماکہ اور آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ متاثرہ جہاز کو قریبی بندرگاہ پر منتقل کیا جائے گا تاکہ نقصان کا جائزہ اور مرمت کی جا سکے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق 35,000 ٹن کے اس جہاز پر 24 عملہ موجود تھا اور آگ انجن روم میں لگی، جسے کیمرہ فوٹیج کے مطابق بجھا دیا گیا۔
برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی گروپ کے مطابق یہ بھی تحقیق کی جائے گی کہ آیا نقصان کسی حملے، سمندر میں تیرتی بارودی سرنگ یا کسی بیرونی شے کے باعث ہوا۔
جنوبی کوریا کی وزارت بحری امور نے علاقے میں موجود اپنے جہازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے، جبکہ حکام شپنگ کمپنیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب 26 جنوبی کوریائی پرچم بردار جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اس جہاز اور دیگر اہداف پر فائرنگ کی ہے، تاہم جنوبی کوریا نے اس پر فوری ردعمل نہیں دیا۔


Comments