آئی ایس ایم او اور نیپرا میں انٹیگریٹڈ سسٹم پلان پر اختلاف شدت اختیار کرگئے
- منصوبوں کی شمولیت، طلب کی پیشگوئیوں اور ریگولیٹری تقاضوں پر دونوں اداروں کے مؤقف مختلف ہیں
انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے درمیان انٹیگریٹڈ سسٹم پلان (آئی ایس پی) 2025-35 کے اہم نکات پر اختلاف شدت اختیار کر گیا ہے، جس میں منصوبوں کی شمولیت، طلب کی پیشگوئیوں اور ریگولیٹری تقاضوں پر دونوں اداروں کے مؤقف مختلف ہیں۔
نیپرا کی 11 مارچ 2026 کی آبزرویشنز کے جواب میں آئی ایس ایم او نے بعض ہائیڈرو پاور منصوبوں کو انڈیکیٹو جنریشن کیپسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025 سے خارج کرنے کا دفاع کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی طلب، منصوبوں میں تاخیر اور پالیسی عوامل کے باعث کمٹڈ پروجیکٹس کی فہرست پر نظرثانی ضروری تھی۔
آئی ایس ایم او کے مطابق آئی ایس پی 2025-35 کو نیشنل الیکٹرسٹی پالیسی 2021 اور نیشنل الیکٹرسٹی پلان 2023-27 کے تحت تیار کیا گیا ہے، جن میں توانائی کے شعبے میں وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹس کی اجازت دی گئی ہے۔
تاہم نیپرا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 88 میگاواٹ گبرال کالام اور 157 میگاواٹ مدین ہائیڈرو پاور منصوبوں کو خارج کرنا سابقہ پالیسی فیصلوں کے خلاف ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق یہ منصوبے آئی جی سی ای پی 2021 کے تحت کمٹڈ قرار دیے گئے تھے، اس لیے انہیں آئندہ منصوبوں میں شامل رکھنا لازم ہے۔
نیپرا نے واضح کیا کہ پالیسی ہدایات میں کمٹڈ منصوبوں کے تسلسل پر زور دیا گیا ہے اور کسی بھی انحراف کے لیے مضبوط جواز درکار ہوگا۔
دوسری جانب آئی ایس ایم او نے مؤقف اپنایا کہ اگرچہ پہلے فیصلے کو مشترکہ مفادات کونسل نے منظور کیا تھا، تاہم بعد کے منصوبوں میں تازہ ترین طلب، لاگت اور پیشرفت کو شامل کرنا ضروری ہے تاکہ کم لاگت اور بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔
آئی ایس ایم او نے یہ بھی بتایا کہ نومبر 2023 میں تشکیل دیے گئے تکنیکی ورکنگ گروپ نے کمٹڈ منصوبوں کے معیار پر نظرثانی کی تھی، جس میں کم از کم 10 فیصد مالی اور فزیکل پیشرفت کو لازمی قرار دیا گیا۔ اس معیار کے تحت مذکورہ دونوں ہائیڈرو منصوبے اس حد پر پورا نہیں اترتے۔
قابلِ تجدید توانائی کے حوالے سے نیپرا نے کے الیکٹرک کے بعض سولر اور ہائبرڈ منصوبوں کو آئی ایس پی 2025 میں مناسب طور پر شامل نہ کیے جانے پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔ نیپرا کے مطابق یہ منصوبے مسابقتی بولی کے ذریعے منظور کیے گئے تھے اور انہیں مستقبل کی منصوبہ بندی میں شامل کیا جانا چاہیے۔
آئی ایس ایم او نے جواب دیا کہ صرف آر ایف پیز یا پاور ایکوزیشن پروگرام میں شامل ہونا کسی منصوبے کو خود بخود کمٹڈ نہیں بناتا، اور ایسے منصوبوں کی شمولیت سے نظام کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا تخمینہ 0.19 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔
طلب کی پیشگوئیوں پر بھی دونوں اداروں میں اختلاف سامنے آیا ہے۔ نیپرا نے ڈسکوز کے ڈسٹری بیوشن انویسٹمنٹ پلانز اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے تخمینوں میں عدم مطابقت پر تشویش ظاہر کی ہے، اور ایک مشترکہ طلب ماڈل بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی ایس ایم او کا کہنا ہے کہ اس نے گرڈ کوڈ کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور ڈسکوز کی جانب سے کسی بھی انحراف کو قواعد کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
ٹرانسمیشن منصوبوں کے حوالے سے بھی اختلاف موجود ہے، جہاں نیپرا نے مکمل منصوبے کے بجائے ایڈنڈم جمع کرانے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ آئی ایس ایم او کا مؤقف ہے کہ صرف ٹائم لائنز میں تبدیلی کی گئی ہے۔
آخر میں نیپرا نے مختلف منصوبوں کی تجارتی آپریشن تاریخوں (سی او ڈی) میں عدم مطابقت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جنہیں مختلف اداروں کی فراہم کردہ معلومات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments