چند روز قبل کراچی میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی وہ رقوم واپس لائیں جو انہوں نے گزشتہ برسوں میں بیرونِ ملک منتقل کی تھیں۔
لہجے سے ایک طرح کی ہنگامی صورتحال کا تاثر مل رہا تھا۔ حکومت کے لیے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینا مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے: جنگ سے وابستہ غیر یقینی صورتحال کے باعث بیرونی سرمایہ کاری اور رقوم کی آمد میں کمی آ رہی ہے، توانائی کی درآمدی ادائیگیوں میں اضافے کا خدشہ ہے اور اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں کمی آسکتی ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ترغیب اور تنبیہ کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ایک طرف، حکام آئندہ بجٹ میں ان لوگوں کے لیے کسی نہ کسی قسم کی مراعات کا اشارہ دے رہے ہیں جو اپنی رقم واپس لائیں گے۔ یہ مراعات ٹیکسوں میں کمی یا کسی اور قسم کی رعایت کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ لیکن اب تک کسی ٹھوس اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا اور وفاقی حکومت کی بگڑتی ہوئی مالی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ کس حد تک بامعنی مالی مراعات فراہم کرسکے گی۔ لہٰذا جب تک صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہوجاتی، سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رہنے کا ہی امکان ہے۔
دوسری جانب ان لوگوں کے خلاف کارروائی کے اشارے بھی دیے گئے جنہوں نے غیر رسمی ذرائع (ہونڈی یا حوالہ) سے پیسہ بیرونِ ملک منتقل کیا۔ لیکن ایک بار جب رقم ملک سے باہر چلی جائے تو حکومت دھمکیوں یا احکامات کے ذریعے اسے واپس لانے کے لیے حقیقت پسندانہ طور پر دباؤ نہیں ڈال سکتی۔ آخر کار اس کا فیصلہ افراد کو خود ہی کرنا ہوتا ہے۔ وہ رقم صرف اسی صورت میں واپس لائیں گے جب انہیں ایسا کرنے میں کوئی قابلِ بھروسہ فائدہ نظر آئے گا۔
حکومت کے حق میں جانے والا ایک عنصر جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے معاشی خطرات ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ امیر پاکستانیوں کی دولت کا ایک بڑا حصہ متحدہ عرب امارات میں موجود ہے اور اب اس خطے کو پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ پرخطر سمجھا جا رہا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی بچتیں وہاں رکھی ہوئی ہیں، وہ اب اس میں تنوع لانے پر غور کر رہے ہوں گے، یا تو اپنی رقم دوسرے ممالک منتقل کر کے یا بعض صورتوں میں، اس کا کچھ حصہ واپس وطن لا کر۔
پہلے ہی کچھ ایسے آثار نمایاں ہورہے ہیں کہ معمولی سطح پر یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ حوالہ ریٹ منفی ہوچکے ہیں اور انٹربینک مارکیٹ سے بھی کم پر ٹریڈنگ ہورہی ہے جبکہ کراچی کی پراپرٹی مارکیٹ میں بھی کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب پیسے کی منتقلی کی رفتار سست پڑ گئی ہے جب کہ کچھ سرمایہ واپس بھی آرہا ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو اسی موقع پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
بہترین ترغیبات زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے فنڈز واپس لانے پر آمادہ کر سکتی ہیں۔ اس کے برعکس زبردستی یا دباؤ کے کامیاب ہونے کا امکان کم ہے اور یہ عمل الٹا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
بہتر طریقہ یہ ہے کہ ترغیبات کو مزید پرکشش بنایا جائے۔ اس سلسلے میں ایک واضح قدم اس حد میں اضافہ کرنا ہو سکتا ہے جس تک بھیجی جانے والی رقوم پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی۔ 2018-2017 میں حکومت نے بغیر کسی تحقیقات کے 50 لاکھ روپے تک واپس لانے کی اجازت دی تھی جو اس وقت تقریباً 50 ہزار ڈالر کے برابر تھے، یہ حد اب بھی 50 لاکھ روپے ہی ہے، لیکن آج اس کی قدر 20 ہزار ڈالر سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اس حد پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکس حکام کا خوف بہت سے لوگوں کو اپنی محنت کی کمائی ایک ایسے ملک میں واپس لانے سے روکے گا جہاں میکرو اکنامک اور سیاسی خطرات اب بھی زیادہ ہیں۔ ایک مؤثر حد 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر کے قریب ہونی چاہیے اور کسی بھی صورت میں ایک لاکھ ڈالر سے کم نہیں ہونی چاہیے۔
اگر حکومت اس سمت میں قدم اٹھاتی ہے تو زیادہ لوگ اپنے فنڈز واپس لانے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر حکومت عمل کرنے میں ناکام رہی تو سرمایہ کار پاکستان رقم واپس لانے کے بجائے متحدہ عرب امارات کے متبادل کے طور پر کسی دوسری محفوظ پناہ گاہ کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی جیو پولیٹیکل اہمیت کا فائدہ بھی اٹھانا چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں ایک اہم پلیئر کے طور پر ابھر رہا ہے تاکہ آئی ایم ایف سے کچھ لچک حاصل کی جاسکے اور اشد ضرورت والی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مزید تخلیقی انداز میں سوچا جاسکے۔ اس میں مقامی اور غیر ملکی دونوں طرح کا سرمایہ شامل ہے جو ملک کے اصلاحاتی ایجنڈے کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments