وینس اب بھی امریکہ میں موجود ہیں اور پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوئے، رائٹرز
- ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر پاکستان کے لیے روانہ ہو چکے ہیں
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس تاحال ملک میں موجود ہیں اور ابھی پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوئے، یہ بات اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتائی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات بدستور غیر واضح ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے قبل مزید بات چیت کے لیے ایک امریکی وفد پاکستان بھیجیں گے۔ پیر کو ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے، تاہم ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
معاملے سے واقف ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ امریکی وفد ابھی روانہ نہیں ہوا، لیکن جلد اسلام آباد جانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
نیویارک پوسٹ نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وینس، وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں۔ یہ تینوں 28 فروری کو ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے پہلے دور میں بھی شریک تھے۔
دریں اثنا، ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران پاکستان میں امریکا کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے، یہ پیش رفت اسلام آباد کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرانے کی کوششوں کے بعد سامنے آئی، جو ایران کے لیے امن عمل میں دوبارہ شمولیت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھی۔
تاہم، عہدیدار نے زور دیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران اپنی شرکت کا ”مثبت جائزہ“ لے رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ ان بیانات سے پہلے کے مؤقف کے مقابلے میں واضح تبدیلی ظاہر ہوتی ہے، جس میں شرکت کو مسترد کرتے ہوئے امریکی جارحیت کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔
ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ثالث پاکستان امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور ایران کی شرکت یقینی بنانے کے لیے مثبت کوششیں کر رہا ہے۔
جنگ بندی اس وقت خطرے میں دکھائی دینے لگی جب امریکا نے کہا کہ اس نے ایک ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے جو ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ واشنگٹن نے ثابت کیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں ”سنجیدہ نہیں“ اور تہران اپنے مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
امریکا جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے کچھ پہلے پاکستان میں مذاکرات شروع کرنے کا خواہاں تھا، جبکہ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے وسیع انتظامات جاری تھے، تاہم بقائی نے کہا کہ امریکا ”کچھ غیر معقول اور غیر حقیقت پسندانہ مؤقف“ پر اصرار کر رہا ہے۔
ایک سینئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کی “دفاعی صلاحیتیں”، بشمول اس کا میزائل پروگرام، مذاکرات کے لیے کھلے نہیں ہیں۔
امریکا-ایران جنگ بندی منگل کی رات ختم ہونے والی ہے
ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اپریل کو ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے اختتام کا درست وقت واضح نہیں کیا۔
مذاکرات میں شامل ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ یہ جنگ بندی منگل کو شام 8 بجے (ایسٹرن اسٹینڈرڈ ٹائم) پر ختم ہوگی، جو گرین وچ وقت کے مطابق رات 12 بجے اور ایران میں بدھ کی صبح 3:30 بجے بنتا ہے۔
ہفتہ وار تعطیل کے دوران توسیع کے امکان سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے جواب دیا: ”مجھے معلوم نہیں۔ شاید نہیں۔ ممکن ہے میں اس میں توسیع نہ کروں۔ لیکن ناکہ بندی برقرار رہے گی۔“
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کی اپنی ناکہ بندی پہلے ختم کی اور پھر دوبارہ نافذ کر دی—یہ آبی گزرگاہ عام طور پر دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل سنبھالتی ہے۔
تیل کی قیمتیں ابتدائی بلندی سے کچھ کم ہو کر دن بھر میں تقریباً 3 سے 4 فیصد اضافے پر رہیں، کیونکہ تاجروں کو خدشہ تھا کہ جنگ بندی ٹوٹ سکتی ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں میں صرف تین جہازوں کی آمدورفت کے ساتھ آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت تقریباً معطل رہی۔


Comments