شی جن پنگ کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، آبنائے ہرمز کی بحالی پر زور
- چین کا فوری اور جامع جنگ بندی کا مطالبہ
چین کے صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کی آمدورفت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے، یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب بیجنگ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
چین نے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے اطراف ایک بار پھر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ نئی کشیدگی کا شکار ہو گیا ہے—امریکا کی جانب سے ایک ایرانی کارگو جہاز کی تحویل اور تہران کے فوری طور پر نئے امن مذاکرات میں شامل نہ ہونے کے اعلان کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔
چین ایران کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ دوسری جانب ایران نے فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک صرف اپنے بحری جہازوں کے لیے محدود کر رکھا ہے، جبکہ واشنگٹن نے گزشتہ ہفتے سے ایرانی بحری جہازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
چین نے فوری اور جامع جنگ بندی کی وکالت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ سرکاری خبر ایجنسی شنہوا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے یہ بات سعودی ولی عہد سے گفتگو میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھا جانا چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
امریکا کی جانب سے ایک ایرانی بحری جہاز کی تحویل کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کے مستقبل پر خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس سے قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ چین نے پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں کردار ادا کیا تھا۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز ایرانی جہاز کی ”زبردستی روک تھام“ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کریں۔
سعودی ولی عہد سے گفتگو سے قبل صدر شی جن پنگ نے گزشتہ ہفتے بیجنگ میں ابوظہبی کے ولی عہد سے ملاقات میں بھی بین الاقوامی قانون کی پابندی پر زور دیا تھا۔
شی جن پنگ نے سعودی ولی عہد سے یہ بھی کہا کہ چین مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی اس کوشش کی حمایت کرتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل اور تقدیر کا فیصلہ خود کریں اور خطے میں طویل المدتی امن و استحکام کو فروغ دیں۔


Comments