BR100 Increased By (0.34%)
BR30 Increased By (1.32%)
KSE100 Increased By (0.58%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 59.31 Increased By ▲ 0.17 (0.29%)
BIPL 26.98 Increased By ▲ 0.36 (1.35%)
BOP 35.22 Increased By ▲ 0.10 (0.28%)
CNERGY 8.15 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 20.10 Increased By ▲ 0.41 (2.08%)
DGKC 219.65 Increased By ▲ 1.03 (0.47%)
FABL 97.00 Decreased By ▼ -0.06 (-0.06%)
FCCL 57.60 Increased By ▲ 0.85 (1.5%)
FFL 17.97 Increased By ▲ 0.09 (0.5%)
GGL 23.50 Decreased By ▼ -0.16 (-0.68%)
HBL 295.89 Increased By ▲ 2.90 (0.99%)
HUBC 231.60 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
HUMNL 11.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.36%)
KEL 8.64 Increased By ▲ 0.22 (2.61%)
LOTCHEM 28.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
MLCF 105.65 Increased By ▲ 2.35 (2.27%)
OGDC 338.33 Increased By ▲ 0.16 (0.05%)
PAEL 44.65 Increased By ▲ 1.18 (2.71%)
PIBTL 18.85 Increased By ▲ 1.15 (6.5%)
PIOC 271.00 Increased By ▲ 1.00 (0.37%)
PPL 245.75 Increased By ▲ 1.43 (0.59%)
PRL 35.40 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
SNGP 122.28 Decreased By ▼ -3.38 (-2.69%)
SSGC 31.90 Decreased By ▼ -1.04 (-3.16%)
TELE 8.86 Decreased By ▼ -0.05 (-0.56%)
TPLP 10.89 Increased By ▲ 0.06 (0.55%)
TRG 65.71 Increased By ▲ 0.81 (1.25%)
UNITY 11.21 Increased By ▲ 0.18 (1.63%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.01 (0.8%)
کاروبار اور معیشت

آئی ایم ایف بورڈ سے نئی قسط کی منظوری ملنے کا امکان

  • دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے، جہاد آزور
شائع April 18, 2026 اپ ڈیٹ April 18, 2026 12:03pm

توقع ہے کہ دیگر بڑی معیشتوں کی طرح عالمی سطح پر پرائس ٹرانسمیشن کے ذریعے پاکستان بھی جاری مشرقِ وسطیٰ تنازع سے متاثر ہوگا، تاہم کھاد کے شعبے پر اس کا اثر محدود رہنے کا امکان ہے جس کی وجہ ملک میں موجود وافر اسٹاک اور مقامی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزور نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کیا۔

آئی ایم ایف کے عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ساتھ پروگرام بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے، توقع ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ نئی قسط کے اجرا کی منظوری دے گا۔

آزور نے کہا کہ پاکستان بھی تمام اہم ممالک کی طرح پرائس ٹرانسمیشن کے ذریعے متاثر ہوگا لیکن ایک بار پھر کھادوں پر اس کا اثر کم ہوگا کیونکہ اس کا ذخیرہ کافی ہے ،اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پاکستان نے اس اہم زرعی ان پٹ کو تیار کرنے کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ ہم اسٹاف لیول معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ممالک نے (عالمی معاشی) جھٹکے کے اثرات کم کرنے کے لیے کچھ فوری اقدامات کیے ہیں جن میں مالیاتی ذرائع کو دانشمندانہ طریقے سے استعمال کرتے ہوئے صرف ان لوگوں کو مدد فراہم کی گئی جنہیں اس کی ضرورت ہے۔

اردن، مصر اور پاکستان کے حوالے سے آئی ایم ایف کے عہدیدار نے کہا کہ ان تینوں ممالک کے پاس پہلے سے ہی (آئی ایم ایف کے) پروگرام موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے ہر پروگرام اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ ان ممالک کی مدد کی جاسکے تاکہ وہ معاشی جھٹکوں کو برداشت کرسکیں اور اپنی معاشی کمزوریوں کو کم کرسکیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف