حکومت نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے حاصل کردہ 3.45 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں 2019 سے جاری 2 ارب ڈالر کے وہ رول اوورز شامل ہیں جو ابتدا میں سالانہ بنیادوں پر قابلِ تجدید تھے، تاہم موجودہ معاہدہ بہت کم مدت کا تھا جو 17 اپریل کو ختم ہونا تھا، اس کے علاوہ 450 ملین ڈالر 11 اپریل کو اور ایک ارب ڈالر 23 اپریل کو واجب الادا ہیں۔ اس فیصلے کی دو وجوہات کی بنا پر بھرپور حمایت کی جارہی ہے: (i) وزارتِ خزانہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے پوری رقم کی فوری واپسی کی درخواست کی تھی اور پاکستان قومی وقار کی خاطر اس کی قیمت ادا کرنے (بوجھ اٹھانے) کیلئے تیار تھا۔ (ii) متحدہ عرب امارات کے ان قرضوں پر شرحِ سود 6 فیصد تھی جو چین اور سعودی عرب سے لیے گئے بقیہ 10 ارب ڈالر کے رول اوورز پر لاگو شرح سے زیادہ ہے۔
پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام پر ہے جو کہ 2019 کے بعد سے مسلسل تیسرا پروگرام ہے اور ان تمام پروگرامز میں حکومت کی جانب سے 3 دوست ممالک (متحدہ عرب امارات، چین اور سعودی عرب) سے قرضوں کے رول اوور (مدت میں توسیع) حاصل کرنے کا وعدہ شامل ہے۔ 10 اکتوبر 2024 کو منظور شدہ 7 ارب ڈالر مالیت کے 36 ماہ طویل توسیعی فنڈ سہولت کی دستاویزات میں یہ نوٹ کیا گیا کہ پاکستان کی آئی ایم ایف کو قرض واپسی کی صلاحیت کو یقینی بنانے کیلئے مالیاتی اور بیرونی استحکام کی بحالی انتہائی ناگزیر ہے۔
اس کا انحصار پالیسیوں کے مضبوط و مستقل نفاذ پر ہے جس میں مالی استحکام اور بیرونی اثاثوں کے ذخائر میں اضافہ، نیز معیشت کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے کے لئے فیصلہ کن اصلاحات شامل ہیں (لیکن ان تک محدود نہیں)۔ مزید برآں دسمبر 2025 کے دوسرے جائزے کی دستاویزات میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ بڑے تجارتی شراکت داروں کے عالمی جیواکنامک اور مالی حالات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ان خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔ ان خطرات کو کم کرنے کیلئے سرکاری قرض دہندگان کی جانب سے پختہ اور قابلِ بھروسہ مالیاتی یقین دہانیوں پر بروقت اور مناسب عمل درآمد ناگزیر ہے۔
لہٰذا اس بات کا واضح امکان موجود ہے کہ ایک بڑے قرض دہندہ کی دستبرداری سے آئی ایم ایف کے عملے میں خدشات پیدا ہوسکتے ہیں، خاص طور پر جب جاری ای ایف ایف پروگرام کا چوتھا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے آج تک اپنے کسی بھی بیرونی قرض کی ادائیگی میں ڈیفالٹ نہیں کیا اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے تمام قرضوں کی واپسی کے مطالبے کے بعد یہ ادائیگی اس مارکیٹ تاثر کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر تھی کہ ملک کبھی بھی اپنے قرضوں کی ادائیگی (چاہے وہ سود ہو یا اصل رقم) میں نادہندہ نہیں ہوگا، خواہ وہ قرضے غیر متوقع طور پر ہی واپس کیوں نہ مانگ لیے جائیں۔ دوسرے لفظوں میں، اس فیصلے کی تعریف کی جانی چاہیے۔
تاہم، ناقدین اس بات کی نشاندہی کرسکتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کی رقم کی واپسی سے 27 مارچ 2026 تک موجود 16,381.7 ملین ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر کم ہو کر 12,931.7 ملین ڈالر رہ جائیں گے۔ یہ وہ رقم ہے جو شاید تین ماہ کی درآمدات کے برابر نہ ہو، جو کہ آئی ایم ایف کی جانب سے اپنے رکن ممالک، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک جو اس وقت فنڈ پروگرام پر ہیں، کے لیے مقرر کردہ ایک معیار ہے۔ یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے نتیجے میں ایندھن کی عالمی سپلائی میں پیدا ہونے والے تعطل کے باعث مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
اس سے روپے اور ڈالر کے تبادلے کی شرح پر بھی منفی اثر پڑیگا جو پچھلے کئی مہینوں سے مستحکم چلی آرہی ہے اور اس کے نتیجے میں بجٹ شدہ مارک اپ (قرضوں پر سود کی ادائیگی) میں اضافہ ہوجائے گا جب تک کہ محصولات میں اضافے اور/یا بجٹ شدہ اخراجات، خاص طور پر جاری اخراجات میں کٹوتی کے ذریعے بچت نہ کی جائے۔
حاصلِ کلام یہ کہ حکومتی فیصلے کے حامیوں کا استدلال ہے کہ عالمی جیو پولیٹکس میں پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار یقیناً کسی دوسرے دو طرفہ یا کثیر الجہتی ادارے سے نیا قرض حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، یا پھر آئی ایم ایف اس معاملے کو پانچویں جائزے تک مؤخر کر دے گا، یا ممکنہ طور پر یہ دونوں صورتیں بیک وقت بھی ہو سکتی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments