BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
اداریہ

اکنامک اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک

شائع اپ ڈیٹ

مارچ 2026 کی اقتصادی اپڈیٹ اور آؤٹ لک 31 مارچ کی دیر شام جاری کی گئی، جب وفاقی وزیرِ خزانہ نے معمول کے طریقہ کار کے مطابق اس کا جائزہ لے لیا تھا۔ وہ لوگ جو اس دستاویز کے اپ لوڈ ہونے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ فروری کے آخری دن سے شروع ہونے والے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ہماری معیشت پر پڑنے والے اثرات کا بہتر اندازہ لگا سکیں، انہیں شاید مایوسی ہوئی ہو کیونکہ ان ماہانہ اپڈیٹس میں ڈیٹا کا بڑا حصہ گزشتہ ماہ (اس صورت میں فروری) سے متعلق ہوتا ہے۔

تاہم یہ اقتصادی رپورٹ جاری تنازع کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرسکی جو اس وقت تمام عالمی اور ملکی خبروں کا مرکزی موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ تنازع کے آغاز سے ہی پاکستان اور چین سمیت علاقائی شراکت داروں کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششیں بھی نمایاں رہی ہیں۔

رپورٹ میں کئی مقامات پر اس تنازع کا ذکر تو کیا گیا لیکن اسے اس طرح کم دکھایا گیا کہ معیشت کو مضبوط ظاہر کیا جاسکے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ علاقائی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی تیاری اور اصلاحاتی اقدامات، نیز ملکی سطح پر حوصلہ افزا پیش رفت، پائیدار ترقی کے امکانات کے لیے بنیاد فراہم کررہے ہیں۔ان دعوؤں کو پرکھنے کے لیے دو دستیاب اشاریے درج ذیل ہیں (i) جولائی تا جنوری 2026 کے دوران پورٹ فولیو انویسٹمنٹ منفی 463.9 ملین ڈالر تھی جو جولائی تا فروری 2026 تک مزید گر کر منفی 490.8 ملین ڈالر ہو گئی (اگرچہ اس دوران پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر مستحکم رہا)۔ رپورٹ میں جس بات کو نمایاں نہیں کیا گیا وہ اسٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں آنے والی بڑی گراوٹ ہے جو 26 فروری کو 168,893 کی سطح پر تھا مگر 30 مارچ تک گر کر 146,842 پر آ گیا۔ (ii) 26 فروری 2026 کو مارکیٹ کیپٹلائزیشن 19.01 ٹریلین روپے تھی جو 30 مارچ 2026 تک گر کر 16.32 ٹریلین روپے رہ گئی ہے۔(iii) روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی جو 26 فروری کو 279.5 کے مقابلے میں 30 مارچ 2026 تک 279.2 پر آ گئی۔ یہ معمولی استحکام عالمی مالیاتی فنڈ کی اس مسلسل تاکید کی یاد دلاتا ہے کہ شرحِ مبادلہ میں لچک کو بیرونی جھٹکوں کے خلاف بنیادی دفاع کے طور پر کام کرنا چاہیے جس میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے اثرات بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں مزید نوٹ کیا گیا کہ حکومت کی بھرپور مدد کے باعث فصلوں کی بوائی کی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر رہی، تاہم آخر میں یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ حتمی پیداوار کا دارومدار بڑی حد تک موسم کی صورتحال، خاص طور پر فصل کی پختگی کے مرحلے پر ہوگا۔ یہ بہتری زرعی قرضوں میں ہونے والے 249.3 ارب روپے کے بڑے اضافے کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔ یکم جولائی 2025 سے 13 فروری 2026 تک زرعی قرضے 638.2 ارب روپے تھے جو 16 مارچ 2026 تک بڑھ کر 887.5 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ قرضوں میں اس قدر بڑے اضافے کا بنیادی مقصد براہِ راست فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہیے۔

بڑے پیمانے کی صنعتوں کی شرحِ نمو جولائی تا فروری 5.75 فیصد رہی جبکہ اسی سال جولائی تا جنوری یہ شرح 4.82 فیصد تھی۔ تاہم، صنعتی شعبے نے ان اعداد و شمار کو مسترد کر دیا ہے، صنعتکاروں کا موقف ہے کہ علاقائی ممالک کے مقابلے میں پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے ملک بھر میں بڑی تعداد میں انڈسٹریل یونٹس بند ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب حکومت ان اخراجات کو کم کرنے کے لیے یوٹیلٹی ٹیرف (بجلی و گیس کے نرخ) میں کمی اور مانیٹری و مالیاتی مراعات میں اضافے پر غور کررہی ہے لیکن ان پالیسیوں کی آئی ایم ایف اپنے جاری پروگرام کے تحت سخت مخالفت کررہا ہے۔

رواں سال جولائی سے فروری کے دوران ترسیلاتِ زر بڑھ کر 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم 24 ارب ڈالر تھا، تاہم فروری میں جنوری کے مقابلے میں ان رقوم کی آمد میں کمی دیکھی گئی اور ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ تنازع کے باعث اس گراوٹ کے رجحان میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے نے ملکی تجارتی توازن کی صورتحال کو مزید تشویشناک بنادیا۔ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا فروری 2025 کے دوران برآمدات 21.9 ارب ڈالر تھیں جو رواں سال اسی مدت میں گر کر 20.7 ارب ڈالر رہ گئی ہیں (یعنی 1.2 ارب ڈالر کی کمی)۔ دوسری جانب درآمدات گزشتہ سال کے 38.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر اس سال 41.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں (یعنی 3.4 ارب ڈالر کا اضافہ)۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی وصولیوں میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے (جولائی تا فروری 2026 کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11.7 فیصد اضافہ)، لیکن ظاہر ہے کہ اس میں مقررہ ہدف سے ہونے والی کمی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ حیران کن طور پر ایف بی آر نے اسی دن جس دن یہ رپورٹ جاری ہوئی، ہدف میں 610 ارب روپے کی تشویشناک کمی کا باضابطہ اعلان کیا۔

اخراجات میں 10.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ پالیسی ریٹ میں ہونے والی کمی ہے جس نے قرضوں پر واجب الادا مارک اپ (سود) کے بوجھ کو کم کر دیا ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کے باعث مہنگائی میں متوقع اضافے کو دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ آئی ایم ایف پالیسی ریٹ میں دوبارہ اضافے پر اصرار کرے۔ اس کا واضح اشارہ 11 مارچ کی پریس ریلیز میں ملتا ہے جس میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ اسٹیٹ بینک کو ایک انتہائی سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ مہنگائی پائیدار طور پر اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف کے اندر رہے۔

ملکی معاشی اشاریے دیگر ممالک کی طرح تیزی سے گرنے کا خدشہ ہے اور اس کے اثرات تنازع کے خاتمے تک برقرار رہیں گے۔ اس وقت توانائی اور ٹیکس کے شعبوں میں بامعنی ساختی اصلاحات کو ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ نہ صرف ان شعبوں کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے بلکہ ان کے منفی اثرات سے اس ملک کے بے بس عوام کو بھی محفوظ رکھا جاسکے۔ مزید برآں اخراجات میں کمی کے لیے شرحِ سود میں کمی یا ترقیاتی اخراجات پر کلہاڑی چلانے کے بجائے ان جاری اخراجات کو ختم کرنے پر توجہ دینی چاہیے جن کا فائدہ صرف بااثر طبقات کو پہنچتا ہے، خاص طور پر ان افراد کی تنخواہیں اور پنشن جو ٹیکس گزاروں کے پیسوں سے ادا کی جاتی ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف