BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)

مشرق وسطیٰ کی جنگ میں توانائی کی 40 تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، آئی ای اے کے سربراہ کا دعویٰ

  • خبردار کیا ہے کہ اس جنگ کے اثرات سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا، فاتح بیرول
شائع اپ ڈیٹ

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ نے بتایا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے خطے کے نو ممالک میں کم از کم 40 توانائی کی تنصیبات کو شدید یا انتہائی شدید نقصان پہنچا ہے۔ آسٹریلیا کے دارالحکومت میں نیشنل پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے فاتح بیرول نے کہا کہ ان نو ممالک میں توانائی کے کم از کم 40 اثاثے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران سے عالمی معیشت کو بڑے خطرے کا سامنا ہے اور اس کے اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔

انہوں نے موجودہ بحران کا موازنہ 1970 کی دہائی کے توانائی کے بحران اور 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے اثرات سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یہ بحران دو بار آنے والے تیل کے بحرانوں اور ایک گیس کریش کا مجموعہ بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیشت کو آج ایک بہت بڑے خطرے کا سامنا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو جائے گا۔ انہوں نے عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سلسلہ اسی سمت میں چلتا رہا تو کوئی ملک اس کے اثرات سے بچ نہیں سکے گا۔

جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور تہران نے ایک دوسرے کو دھمکیاں دی ہیں، جہاں امریکی صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، جس کے ذریعے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس رکاوٹ نے اس تنگ آبی گزرگاہ سے پیٹرولیم کی ترسیل کو تقریباً روک دیا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

فاتح بیرول نے متنبہ کیا کہ یہ بحران صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پیٹرو کیمیکلز، کھادوں، گندھک اور ہیلیم کی تجارت بھی معطل ہو چکی ہے اور ان رکاوٹوں کے عالمی منڈی کے لیے ”سنگین نتائج“ برآمد ہوں گے۔

Comments

200 حروف