کفایت شعاری پالیسی، سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین فیول کے استعمال پر پابندی عائد
- فیصلہ ہائی اوکٹین پر پیٹرولیم لیوی میں حالیہ 200 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد کیا گیا
حکومتی اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری پالیسی کو فروغ دینے کے لیے تمام سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین فیول کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ہائی آکٹین فیول پر پٹرولیم لیوی میں حالیہ 200 روپے فی لٹر اضافے کے بعد کیا گیا۔
نئے ہدایت نامہ کے تحت سرکاری محکموں پر پبلک ایکسپینس سے ہائی آکٹین فیول کے استعمال پر سختی سے پابندی عائد کردی گئی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق اگر کسی سرکاری گاڑی کیلئے ہائی آکٹین فیول کا استعمال ناگزیر ہوجائے تو اس کا خرچ ریاست کے بجائے صارف کو ذاتی طور پر برداشت کرنا ہوگا۔
وزارتِ اعظم کے دفتر نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے کفایت شعاری مہم کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن پر 50 فیصد کٹوتی کا اطلاق پہلے ہی کیا جا چکا ہے، اس کے ساتھ ساتھ 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراونڈ کیا جا چکا ہے۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام وفاقی محکمے، اتھارٹیز اور ذیلی ادارے اس فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے رواں ماہ کے اوائل میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کے اقدامات کا اعلان کیا جس میں سرکاری دفاتر کے لیے چار روزہ ہفتہ وار کام بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع کے ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کی تیاریوں کا حصہ ہیں۔
پیر کو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کار ایک طرف توانائی کی تنصیبات پر امریکہ اور ایران کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں کا جائزہ لے رہے ہیں، اور دوسری طرف واشنگٹن کی جانب سے عارضی طور پر پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد لاکھوں بیرل ایرانی سمندری تیل کی عالمی منڈی میں آمد کو دیکھ رہے ہیں۔
عالمی وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق صبح 04:46 بجے تک برینٹ کروڈ کے فیوچر سودوں کی قیمت 65 سینٹ اضافے کے ساتھ 112.84 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 84 سینٹ اضافے کے بعد 98.75 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے بجلی کے شعبے پر حملہ کیا گیا تو وہ جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیل کے بجلی گھروں کے ساتھ خطے کے ان ممالک کے پاور پلانٹس کو بھی نشانہ بنائے گا جو امریکی فوجی اڈوں کو بجلی فراہم کررہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ اگر تہران 48 گھنٹوں کے اندر تمام بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے میں ناکام رہا تو ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔


Comments