بجلی کا اوسط ٹیرف28.99 روپے فی یونٹ تک کم کرنے اور ٹی ڈی ایس ختم کرنے کی تیاری
- نیپرا نے 2026 کے لیے ملک بھر کا اوسط بجلی کے ٹیرف کی شرح تقریباً 31.59 روپے فی یونٹ مقرر کی ہے
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاور ڈویژن بجلی کے اوسط ٹیرف کو 28.99 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ تک کم کرنے اور 27 جون سے ٹیرف ڈیفرنشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کو ختم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
نیپرا نے 2026 کے لیے ملک بھر کا اوسط بجلی کے ٹیرف کی شرح تقریباً 31.59 روپے فی یونٹ مقرر کی ہے، جو 2024-25 میں 32.73 روپے فی یونٹ تھی۔ پاور ڈویژن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی وزٹ کرنے والی ٹیم کو بجلی کے شعبے کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبے بھی پیش کرے گا۔
ذرائع کے مطابق، 30 جون 2024 کو 2.393 کھرب روپے کے برابر سرکولر ڈیٹ تھا، جسے 27 جون تک 1.2 کھرب روپے تک کم کرنے کا ہدف تھا لیکن اب یہ ہدف 1.346 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے 200 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی تاکہ سرکولر ڈیٹ آئی ایم ایف کے ہدف کے مطابق برقرار رہے۔
اس رقم کی سرمایہ کاری ڈسکوز کی ایکویٹی میں کی گئی تاکہ کیش فلو کے مسائل حل ہوں۔ ملک میں سرکولر ڈیٹ کے 2.4 کھرب روپے کو گزشتہ چھ سال میں ری فائنانسنگ کے ذریعے تبدیل کیا گیا، جس میں 1.275 کھرب روپے کم نرخ پر ڈیبٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) کے ذریعے ادا کیے گئے۔
ڈسکوز کی وصولی 30 جون 2024 کو 90 فیصد تھی جو جون 2027 تک 97.34 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ ٹی اینڈ ڈی نقصانات جو 30 جون 2024 کو 18.3 فیصد تھے، انہیں 14.7 فیصد تک کم کرنے کا ہدف مقرر ہے۔ درآمدی ایندھن کا حصہ 24.2 فیصد سے کم کر کے 20.5 فیصد کیا جائے گا۔
سبسڈی 1.1 کھرب روپے سے کم کر کے 936 ارب روپے کی جا رہی ہے۔ ڈیٹا میچنگ مکمل ہونے کے بعد 1 جون 2027 سے ٹی ڈی ایس ختم کیا جائے گا جبکہ ووچر اسکیم کے لیے اتفاق رائے باقی ہے۔ پاور ڈویژن اور پاس 16.5 ملین صارفین کے لیے مشترکہ سبسڈی اسکیم تیار کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ سالانہ دستیاب بجلی کی اوسط استعداد 52 فیصد سے بڑھا کر 58 فیصد کی جائے گی۔ پاور ڈویژن آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ تین سالہ اضافی پیکج کے امور پر بات کرے گا تاکہ صارف دوست اصلاحات ممکن ہوں۔ صنعتی شعبے کی بڑھتی ہوئی بجلی کی کھپت کا اہم سبب کیپیٹو سے نیشنل گرڈ کی منتقلی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments