وزیر خزانہ کی العلا کانفرنس میں شرکت، قرضوں میں کمی اور مالیاتی ترقی کو اجاگر کیا
- اصلاحات کا سفر ابھی جاری ہے، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی گزشتہ 3 برس کے دوران جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح تقریباً 74 فیصد سے کم ہو کر لگ بھگ 70 فیصد تک آ گئی ہے ،اس کے ساتھ ساتھ سودی لاگت میں نمایاں بچت، میچورٹیز کو ہموار بنانے اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی لانے میں بھی مدد ملی ہے
وفاقی وزیر نے یہ بات پیرکو العلا کانفرنس 2026 کے موقع پر خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنا کے موضوع پر اعلیٰ سطح کے گول میز مباحثے میں شرکت کے موقع پرکہی۔ کانفرنس حکومتِ سعودی عرب اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اشتراک سے منعقد کی گئی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے منظم معاشی پالیسیوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور فعال قرضہ جاتی نظم و نسق کے ذریعے استحکام کی بحالی میں ابتدائی مگر بامعنی پیشرفت کی ہے تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اصلاحات کا سفر ابھی جاری ہے۔
وزیرخزانہ نے بتایا کہ پاکستان سرکاری قرضے کو قابو میں رکھنے اوراسے بہتر انداز میں منظم کرنے کی راہ پر گامزن ہے جس میں مدتِ ادائیگی میں توسیع، قرضہ سروسنگ لاگت میں کمی اور بعض قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی شامل ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ تین برسوں کے دوران جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح تقریباً 74 فیصد سے کم ہو کر لگ بھگ 70 فیصد تک آ گئی ہے جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے بیرونی قرضہ کی شرح مستحکم رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سودی لاگت میں نمایاں بچت، میچورٹیز کو ہموار بنانے اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی لانے میں بھی مدد ملی ہے۔
اپنی گفتگو کے دوران وزیرِ خزانہ نے نوٹ کیا کہ عالمی سطح پر پبلک قرضے تاریخی طور پر بلند ترین سطح پر برقرار ہیں جس کی وجہ سے ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں پر قرضوں کی ادائیگی کی بڑھتی ہوئی لاگت، مالیاتی حصول کی سخت شرائط اور بجٹ کی محدود گنجائش کے باعث مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی پالیسی چیلنج نہ صرف قرضوں کے حجم کو سنبھالنا ہے بلکہ نقدی کے دباؤ کو دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے، اور ساتھ ہی ترقی کی رفتار بڑھانے والے اخراجات اور سماجی بہبود کے فنڈز کا تحفظ کرنا ہے۔
محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ کے ان ریمارکس کی طرف توجہ دلائی جس میں انہوں نے مشاہدہ کیا تھا کہ میکرو اکنامک استحکام معاشی ترقی کا دشمن نہیں، بلکہ یہ پائیدار اور دیرپا معاشی پھیلاؤ کے لیے ایک لازمی بنیاد ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کا حالیہ تجربہ اس نقطہ نظر کی بھرپور تائید کرتا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان نے قرضوں کی پائیداری کے تجزیے کے عمل کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے طریقہ کار کے مطابق مستقل اور شفاف بنیادوں پر ادارہ جاتی شکل دے دی ہے جس میں ملکی و بیرونی قرضوں کے ساتھ ساتھ حکومتی ضمانتیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اس تبدیلی نے خطرات کی نشاندہی کو بہتر بنایا ہے، قرض دہندگان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے جو کہ جی 20 کامن فریم ورک کے مقاصد کے عین مطابق ہے۔
انہوں نے ملکی وسائل کو متحرک کرنے میں ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا اور نوٹ کیا کہ پاکستان نے اپنے ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں اضافہ کیا ہے، جو ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نیٹ میں وسعت جیسے اقدامات کی بدولت اب گزشتہ برسوں کی سنگل ڈیجٹ (اکائی) سطح سے بڑھ کر 12 فیصد کے قریب پہنچ رہا ہے۔
مزید برآں محمد اورنگزیب نے قرضوں کے انتظام کو ماحولیاتی اور ترقیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی پاکستانی کوششوں کی جانب توجہ دلائی جس میں گرین سکوک کا اجراء اور سوویرین سسٹین ایبل فنانسنگ فریم ورک کا قیام شامل ہے۔
اپنے ریمارکس کے اختتام پر وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ خود مختار قرضوں کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے بروقت کارروائی، مضبوط اداروں، شفافیت اور قابلِ اعتبار پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے، جنہیں بہتر عالمی ہم آہنگی کی حمایت حاصل ہو۔


Comments