بلوچستان میں 145 دہشت گرد ہلاک، سرفراز بگٹی کا حملوں کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے کا عزم
- ہمارا خون سستا نہیں ہے، بی ایل اے کے حملوں کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کا بھرپور جوابی کارروائی کا عہد
سیکورٹی فورسز اتوار کو بلوچستان میں مربوط حملوں کے پیچھے ملوث دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف رہیں، جبکہ حکومت نے دو دنوں میں 145 دہشت گردوں سمیت 190 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد بھرپور جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے بینکوں، جیلوں، تھانوں اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے ایک دن بعد بھی تقریباً ایک درجن مقامات کو سیل کر کے سرچ آپریشن جاری رہا۔ ان حملوں میں کم از کم 31 عام شہری اور 17 سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جوابی کارروائی میں کم از کم 145 دہشت گرد بھی مارے گئے، جبکہ ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک ڈپٹی ڈسٹرکٹ کمشنر کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں وہ 40 سے زائد دہشت گرد بھی شامل ہیں جنہیں سیکورٹی فورسز نے جمعہ کے روز ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے صوبے میں امن اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کے لیے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی سمیت کئی اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے گوادر اور خاران میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جس میں خواتین، بچوں، بوڑھوں اور مزدوروں سمیت 18 افراد ہلاک ہوئے۔ صوبے بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس 24 گھنٹے سے زائد عرصے سے معطل ہے، جبکہ سڑکوں پر ٹریفک متاثر اور ٹرین سروسز بھی بند ہیں۔
دھماکوں سے لرزنے کے بعد عام طور پر مصروف رہنے والا کوئٹہ شہر اتوار کو خاموش رہا، بڑی سڑکیں اور کاروبار ویران تھے اور لوگ خوف کے مارے گھروں میں محصور رہے۔ کوئٹہ کے ایک 39 سالہ دکاندار حمد اللہ نے اے ایف پی کو بتایا جو بھی گھر سے نکلتا ہے اسے بخیریت واپسی کا یقین نہیں ہوتا، ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ آیا وہ سلامت واپس آئیں گے یا نہیں۔
ادھر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اتوار تک حملوں کی زد میں آنے والے تمام اضلاع کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہم ان کا پیچھا کر رہے ہیں اور انہیں اتنی آسانی سے جانے نہیں دیں گے۔ ہمارا خون اتنا سستا نہیں ہے، ہم ان کی پناہ گاہوں تک ان کا پیچھا کریں گے۔
صوبے کے سب سے سرگرم دہشت گرد گروہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اس گروپ نے جسے امریکہ بھی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے کہا کہ اس نے فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ پولیس اور سول انتظامیہ کے حکام کو مسلح حملوں اور خودکش دھماکوں میں نشانہ بنایا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے جو ہفتے کی رات دیر گئے جنازوں میں شرکت کے لیے کوئٹہ پہنچے تھے کہا کہ حملہ آوروں کو بھارت کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان واقعات میں ملوث ایک بھی دہشت گرد کو نہیں چھوڑیں گے۔اسی طرح وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں کے بھارت سے روابط ہیں اور انہوں نے ان دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کا عہد کیا۔ بھارت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
دن دیہاڑے حملے
پاکستان دہائیوں سے بلوچستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے، جہاں سیکورٹی فورسز، غیر ملکی شہریوں اور غیر مقامی پاکستانیوں پر اکثر مسلح حملے ہوتے رہتے ہیں۔ ہفتے کے حملے فوج کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئے جس میں کہا گیا تھا کہ صوبے میں دو الگ الگ کارروائیوں میں 41 شرپسند مارے گئے۔
شدت پسندوں نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں گروپ لیڈر بشیر زیب کو حملے کے دوران موٹر سائیکلوں پر مسلح دستوں کی قیادت کرتے دکھایا گیا ہے۔ ایک اور کلپ میں ضلع نوشکی سے مبینہ طور پر اغوا کیے گئے سینئر افسر کو دکھایا گیا۔ ایک اور ضلع میں دہشت گردوں نے ڈسٹرکٹ جیل سے کم از کم 30 قیدیوں کو چھڑا لیا اور اسلحہ و گولہ بارود بھی قبضے میں لے لیا۔ انہوں نے ایک تھانے میں توڑ پھوڑ کی اور وہاں سے بھی اسلحہ ساتھ لے گئے۔
سنگاپور کے ایس راجرتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے عبدالباست نے اے ایف پی کو بتایا یہ حالیہ برسوں میں خطے کے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک تھا کیونکہ دیگر حملوں کے برعکس یہ دن دیہاڑے کیا گیا۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ دہشت گرد اب منظم افرادی قوت اور مہارت کے ساتھ صوبائی دارالحکومت تک پہنچ گئے ہیں۔
بی ایل اے کی کئی ویڈیوز میں خواتین دہشت گردوں کو بھی دکھایا گیا، جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کم از کم ایک خودکش حملہ آور نوجوان خاتون تھی۔ گزشتہ برس ان دہشت گردوں نے 450 مسافروں والی ٹرین پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد دو روزہ خونی محاصرہ ہوا تھا۔


Comments