سپر ٹیکس کی یکمشت وصولی کے فیصلے پر کراچی چیمبر حکومت پر برس پڑا
- خطیر ٹیکس واجبات کی یکمشت ادائیگی کا مطالبہ کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج اور ملکی معیشت کو مزید کمزور کر دے گا، صدر ریحان حنیف
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کےسی سی آئی) نے وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس کی یکمشت وصولی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کراچی چیمبر نے خبردار کیا ہے کہ خطیر ٹیکس واجبات کی یکمشت ادائیگی کا مطالبہ کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج اور ملکی معیشت کو مزید کمزور کر دے گا۔
صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف کا کہنا ہے کہ بزنس کمیونٹی عدالتی فیصلے اور حکومتی ریونیو کی ضرورت سے انکار نہیں کرتی لیکن موجودہ حالات میں وصولی کا وقت اور طریقہ کار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صنعتیں پہلے ہی بجلی و گیس کے بھاری نرخوں، بلند شرحِ سود، ضرورت سے زیادہ ٹیکسوں اور پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے شدید مالی بحران اور نقدی کی قلت کا شکار ہیں۔
محمد ریحان حنیف کے مطابق کراچی سمیت ملک بھر کی صنعتوں سے اربوں روپے کے سپر ٹیکس کا اچانک مطالبہ کمپنیوں کا ’ورکنک کیپیٹل‘ ختم کر دے گا، جس سے تنخواہوں کی ادائیگی، خام مال کی درآمد اور یوٹیلیٹی بلز جیسے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سپر ٹیکس کی واجب الادا رقم کو برسوں سے زیرِ التوا انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کے عوض ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ریفنڈز کی ایڈجسٹمنٹ ممکن نہیں تو حکومت کو ادائیگیوں کے لیے آسان اقساط کی سہولت دینی چاہیے، تاکہ صنعتیں بند ہونے اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری سے بچا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ لچک کے بغیر ٹیکس وصولی ٹیکسٹائل، انجینئرنگ اور فارماسیوٹیکل جیسے برآمدی شعبوں کو دیوالیہ کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف برآمدات میں کمی آئے گی بلکہ معاشی سرگرمیاں رکنے سے ٹیکس نیٹ بھی سکڑ جائے گا۔
صدر کے سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ حکومت سخت اقدامات کے بجائے تجارتی اداروں کے ساتھ مل کر مشاورت سے راستہ نکالے۔


Comments