ریونیو خلا بڑا، صوبے ٹیکس اکٹھا کرنے کی کوششیں تیز کریں، چیئرمین ایف بی آر
- وفاق کو بھی اپنے اخراجات میں کمی لانا چاہیے، راشد لنگڑیال
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ ٹیکس وصولی کے معاملے میں صوبوں کو وفاق سے زیادہ کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ ان کا ریونیو خلا بڑا ہے، جبکہ وفاق کو بھی اپنے اخراجات میں کمی لانا چاہیے۔
اتوار کے روز الحمرا آرٹس سینٹر میں افکارِ تازہ تھنک فیسٹ کے تحت منعقدہ ایک پینل مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس وصولی کے لیے معاشی ترقی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2009 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق اور صوبوں نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 15 فیصد تک لے جانے پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبوں کے پاس تین بڑے ٹیکس ذرائع ہیں جن میں سروسز ٹیکس، زرعی آمدن ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس شامل ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 15 فیصد تک لانا ہے تو صوبوں کو کم از کم 2.5 فیصد حصہ ڈالنا ہوگا جبکہ باقی 12.5 فیصد وفاق جمع کرے گا۔ اگر یہ شرح 18 فیصد تک بڑھائی جائے تو صوبوں کا حصہ بڑھ کر 3 فیصد ہو جائے گا۔
راشد لنگڑیال نے ساختی مسائل پر سنجیدہ گفتگو کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ این ایف سی سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وفاق کو صوبوں میں چھوٹے چھوٹے منصوبوں پر اخراجات جاری رکھنے چاہییں یا نہیں، اور کہا کہ ایسے معاملات باہمی افہام و تفہیم سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملائیشیا میں پراپرٹی ٹیکس جی ڈی پی کا 5 فیصد، انڈونیشیا میں 3 فیصد اور بھارت میں 2 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں یہ صرف 0.8 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں میں ٹیکس وصولی کی کم سطح کی ایک وجہ وفاق کی جانب سے خاطر خواہ دباؤ نہ ہونا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کراچی میں فی کس پراپرٹی ٹیکس وصولی 111 روپے تھی جبکہ بھارتی شہر بنگلورو میں یہ 11,233 روپے تھی، جو تقریباً 100 گنا زیادہ ہے۔ لاہور میں فی کس وصولی 623 روپے رہی جبکہ چندی گڑھ میں یہ 1,276 روپے فی کس تھی۔ انہوں نے دہرایا کہ ریونیو خلا زیادہ ہونے کی وجہ سے صوبوں کو وفاق سے بڑھ کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس آمدن میں اضافے کے لیے معاشی ترقی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ شوگر ملوں میں کیمرے نصب کرنے سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول ہوا۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ فنڈز ضائع ہوئے، اور کہا کہ یہ رقم صوبوں کو منتقل کی گئی جہاں نمایاں ترقیاتی کام جاری ہیں۔
ستھرا پنجاب اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور اب وہاں روزانہ صفائی کی جا رہی ہے جو پہلے نہیں ہوتی تھی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments