مانیٹری پالیسی کمیٹی کا 26 جنوری کو اجلاس، شرح سود سنگل ڈیجٹ میں آنے کا امکان
- مہنگائی میں نمایاں کمی، میکرو اکنامک ماحول شرح سود میں کمی کے تسلسل کے لیے تیزی سے سازگار ہورہا ہے، عارف حبیب لمیٹڈ
توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) مہنگائی میں کمی، بیرونی استحکام اور بانڈ ییلڈز میں گراوٹ کے باعث 26 جنوری 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کمی کرے گا۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل)نے جمعہ کو کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ اسٹیٹ بینک 26 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں 75 بیسس پوائنٹس کی کمی کرسکتا ہے جس سے یہ شرح ممکنہ طور پر 9.75 فیصد تک آ جائے گی جو کہ طویل انتظار کے بعد شرح سود کے دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں واپسی کا اشارہ ہو گا۔
شرح سود میں کمی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے عارف حبیب لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے واضح ہے کیونکہ مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، میکرو اکنامک ماحول شرح سود میں کمی کے تسلسل کے لیے تیزی سے سازگار ہورہا ہے، کرنسی کی قدر مجموعی طور پر مستحکم ہے، کرنٹ اکاؤنٹ قابو میں ہے، بین الاقوامی اشیاء کی قیمتیں بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کم ہوئی ہیں اور صنعتی ترقی کے ساتھ مقامی طلب میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ تمام عوامل مل کر اسٹیٹ بینک کیلئے ایسی گنجائش پیدا کرتے ہیں کہ وہ معیشت کو غیرمستحکم کیے بغیر شرح سود میں کمی کرسکے۔
اے ایچ ایل نے مزید اس بات پر زور دیا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں 75 بیسس پوائنٹس کی کمی بڑے پیمانے کے معاشی حقائق کے عین مطابق ہے۔
مہنگائی معاون ہے، نمو کو فروغ کی ضرورت ہے، مالیاتی حساب کتاب میں ریلیف درکار ہے اور بیرونی استحکام برقرار ہے۔
مہنگائی کی صورتحال سازگار ہے، معاشی ترقی کو سہارے کی ضرورت ہے، مالیاتی حساب کتاب ریلیف کا تقاضا کر رہا ہے اور بیرونی استحکام برقرار ہے۔
تاہم اس اتفاقِ رائے کے پسِ پردہ ایک باریک اشارہ بھی موجود ہے،رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر حالات اسی طرح سازگار رہے اور (مارکیٹ کا) اعتماد برقرار رہا، تو 100 بیسس پوائنٹس کی کمی جیسے بڑے فیصلے کی گنجائش بھی خاموشی سے موجود ہے۔
گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک نے ایک غیر متوقع فیصلے میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 10.5 فیصد کر دیا تھا۔ شرح سود کے 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 1,150 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا چکی ہے۔
اسی طرح ایک اور بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی اپنے حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے شرح سود میں کمی کی توقع ظاہر کی ہے، جس کے مطابق 80 فیصد شرکاء شرح سود میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق شرح سود میں کمی کی توقع رکھنے والے 80 فیصد شرکاء میں سے 56.4 فیصد کو 50 بیسس پوائنٹس، 15.4 فیصد کو 100 بیسس پوائنٹس، 5 فیصد کو 25 بیسس پوائنٹس اور 3 فیصد کو 75 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع ہے۔
بروکریج ہاؤس نے مارکیٹ کے رجحان میں اس تبدیلی کی وجہ گزشتہ دو ماہ کے دوران مہنگائی کے اعدادوشمار کا توقع سے کم رہنا، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کی بہتر آمد، مستحکم بیرونی اکاؤنٹس اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کا بڑی حد تک برقرار رہنا قرار دیا ہے۔
بروکریج ہاؤس نے کہا کہ ہمیں بھی توقع ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 10.0 فیصد تک لے آئے گا۔
ٹاپ لائن نے بتایا کہ مالی سال 2026 کی اوسط مہنگائی پر مبنی حقیقی شرح سود اس وقت تقریباً 350 بیسس پوائنٹس ہے جو کہ 200 بیسس پوائنٹس کی تاریخی اوسط سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کے باوجود ہمارے نقطہ نظر میں مرکزی بینک معیشت میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اوسط سے زیادہ حقیقی شرح سود برقرار رکھنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔


Comments