BR100 Increased By (0.04%)
BR30 Increased By (0.04%)
KSE100 Increased By (0.11%)
KSE30 Increased By (0.08%)
BAFL 56.75 Increased By ▲ 0.28 (0.5%)
BIPL 24.86 Increased By ▲ 0.23 (0.93%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 12.89 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.88 Increased By ▲ 0.39 (2.23%)
DGKC 187.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
FABL 93.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 51.67 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
FFL 14.50 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.21%)
HBL 304.39 Increased By ▲ 0.61 (0.2%)
HUBC 199.00 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
HUMNL 9.93 Increased By ▲ 0.08 (0.81%)
KEL 6.04 Decreased By ▼ -0.02 (-0.33%)
LOTCHEM 26.60 Increased By ▲ 0.43 (1.64%)
MLCF 90.96 Decreased By ▼ -0.27 (-0.3%)
OGDC 314.45 Increased By ▲ 1.06 (0.34%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
PIBTL 14.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 238.07 Decreased By ▼ -1.55 (-0.65%)
PPL 220.90 Decreased By ▼ -0.46 (-0.21%)
PRL 91.30 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 90.80 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
SSGC 23.32 Increased By ▲ 0.02 (0.09%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.13%)
TPLP 12.68 Increased By ▲ 0.12 (0.96%)
TRG 55.76 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
UNITY 8.02 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
پاکستان

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی، پاکستان کیلئے غیر ملکی معاونت 4.51 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

  • دسمبر میں عالمی اداروں اور دوطرفہ بنیاد پر دیگر ممالک سے قرضوں اور گرانٹس کی مجموعی رقم 1.47 ارب امریکی ڈالر رہی
شائع اپ ڈیٹ

مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کو موصول ہونے والی غیر ملکی معاونت 4.51 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں عالمی اداروں اور دوطرفہ بنیاد پر دیگر ممالک سے قرضوں اور گرانٹس کی مجموعی رقم 1.47 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ اس سے قبل نومبر میں یہ رقم محض 511.49 ملین امریکی ڈالر تھی۔

جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران مجموعی دوطرفہ قرضے اور گرانٹس 1.07 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ اسی مدت میں عالمی اداروں سے قرضوں اور گرانٹس کی مالیت 1.97 ارب امریکی ڈالر رہی۔

جولائی تا دسمبر کی مدت میں مجموعی دوطرفہ گرانٹس 31.68 ملین امریکی ڈالر رہیں۔ گرانٹس کی سب سے بڑی رقم جاپان سے موصول ہوئی جو 11.86 ملین امریکی ڈالر تھی، اس کے بعد چین سے 10.57 ملین امریکی ڈالر اور سعودی عرب سے 3.31 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹس حاصل ہوئیں۔

مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ میں مجموعی دوطرفہ قرضوں کی مالیت 1.04 ارب امریکی ڈالر رہی۔ اس میں چین کے ضمانتی قرضے 255.6 ملین امریکی ڈالر، چین سے مزید 72.28 ملین امریکی ڈالر، ڈنمارک سے 71.15 ملین امریکی ڈالر، فرانس سے 15.61 ملین امریکی ڈالر شامل ہیں، جبکہ سب سے بڑا قرض 600 ملین امریکی ڈالر سعودی عرب سے پاکستان کے لیے تیل سہولت کے تحت موصول ہوا۔

جولائی تا دسمبر کے دوران عالمی اداروں سے گرانٹس کی مجموعی رقم 28.95 ملین امریکی ڈالر رہی۔ اس میں سے 15.40 ملین امریکی ڈالر آئی بی آر ڈی سے، 8.18 ملین امریکی ڈالر آئی ڈی اے سے، 2.72 ملین امریکی ڈالر آئی ایف اے ڈی سے جبکہ 265 ملین امریکی ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک سے موصول ہوئے۔

اسی مدت میں عالمی اداروں سے قرضوں کی مجموعی رقم 1.97 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ آئی ڈی اے 580.77 ملین امریکی ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض دہندہ رہا، اس کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک نے 549.24 ملین امریکی ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک نے قلیل مدتی قرض کی مد میں 483.78 ملین امریکی ڈالر، آئی بی آر ڈی نے 221.73 ملین امریکی ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک نے مزید 52.49 ملین امریکی ڈالر جبکہ آئی ایف اے ڈی نے 21.39 ملین امریکی ڈالر فراہم کیے۔

مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینوں کے مطابق عالمی اداروں اور دوطرفہ گرانٹس کی مجموعی رقم 147.93 ملین امریکی ڈالر رکھی گئی ہے، جبکہ عالمی اداروں اور دوطرفہ قرضوں کا تخمینہ 6.4 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ جولائی تا دسمبر کے دوران نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت رقوم کی وصولی 1.2 ارب امریکی ڈالر رہی۔

زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم سطح پر برقرار رکھنے کے لیے پاکستان نے 9 ارب امریکی ڈالر بطور ٹرم ڈپازٹ رکھے، جن میں سے 5 ارب امریکی ڈالر مملکتِ سعودی عرب اور 4 ارب امریکی ڈالر چین کے سیف ڈپازٹ کی صورت میں شامل ہیں۔

آئی ایم ایف کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت فراہم کی جانے والی فنانسنگ اقتصادی امور ڈویژن یا وزارتِ خزانہ کے کھاتوں میں ظاہر نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ بیلنس آف پیمنٹس کی معاونت کے طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بیلنس شیٹ میں درج کی جاتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

Comments are closed.