ٹرمپ کا ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کیلئے الیون مسک سے بات کرنے کا اعلان
- ایران میں معلومات کے بہاؤ کو جمعرات سے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے متاثر کیا ہوا ہے
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں حکومت نے جاری عوامی مظاہروں کے درمیان چار دن سے سروسز بند کر رکھی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قسم کے کام میں بہت ماہر ہیں، ان کی کمپنی بھی بہت اچھی ہے۔ ٹرمپ کا اشارہ الیون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی جانب تھا، جو سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک فراہم کرتی ہے اور جسے ایران میں استعمال کیا جا چکا ہے۔
ایران میں معلومات کے بہاؤ کو جمعرات سے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے متاثر کیا ہوا ہے، اور یہ مظاہرے 2022 کے بعد ملک میں حکومت کیخلاف سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہیں۔
ایلون مسک اور اسپیس ایکس نے فوری طور پر کسی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ الیون مسک اور ٹرمپ کے تعلقات کبھی دوستانہ اور کبھی کشیدہ رہے ہیں۔ الیون مسک نے ٹرمپ کی کامیاب صدارتی مہم میں مالی مدد فراہم کی تھی، اور بعد میں وفاقی حکومت کے اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کے اقدامات کیے۔
گذشتہ سال دونوں کے تعلقات کشیدہ ہوئے جب الیون مسک نے ٹرمپ کے ٹیکس بل کی مخالفت کی، تاہم اب لگتا ہے کہ وہ دوبارہ ٹرمپ انتظامیہ کے قریب آ گئے ہیں۔ اس ماہ الیون مسک اور ٹرمپ کو ٹرمپ کے مارا لاگو ریزورٹ میں ایک ساتھ کھانا کھاتے دیکھا گیا، اور سیکریٹری آف ڈیفنس پیٹ ہیگسیتھ بھی اسپیس ایکس کی ٹیکساس میں واقع فیسلیٹی کا دورہ کریں گے۔
ماضی میں الیون مسک نے اسٹار لنک فراہم کرنے کی حمایت کی تاکہ ایرانی حکومت کی پابندیوں کا توڑ کیا جا سکے، بشمول 2022 کے مظاہروں کے دوران۔ اس سال، بائیڈن انتظامیہ نے الیون مسک کے ساتھ ایران میں اسٹار لنک قائم کرنے کے لیے کام کیا تھا، جب پولیس حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد ملک میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
اسٹار لنک سروس دیگر کشیدہ علاقوں میں بھی استعمال ہوئی، جیسے یوکرین، جہاں 2022 میں الیون مسک نے اہم یوکرینی حملے کے دوران اسٹار لنک بند کرنے کا حکم دیا۔
ایران میں موجودہ مظاہرے 28 دسمبر کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف شروع ہوئے اور بعد میں ایران کی مذہبی قیادت کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔ حقوقی گروپوں کے مطابق، دو ہفتوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی تنظیم ہرانا نے تصدیق کی کہ 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 10,600 سے زائد گرفتار ہوئے ہیں۔ ایران نے سرکاری ہلاکتوں کی تفصیلات نہیں دیں اور روئٹرز آزاد طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔


Comments
Comments are closed.