امریکی ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی، خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
- برنٹ کروڈ کی قیمت 38 سینٹ یا 0.6 فیصد بڑھ کر 60.34 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
خام تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعرات کے روز معمولی اضافہ دیکھا گیا، جو دو روزہ کمی کے بعد ایک قدرے بحالی کا اشارہ ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکی خام تیل کے ذخائر میں توقع سے کہیں زیادہ کمی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو فیوچر خریدنے کی نئی تحریک دی، جبکہ دوسری جانب سرمایہ کار وینزویلا کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مارکیٹ میں جمعرات کے ابتدائی کاروبار کے دوران برنٹ کروڈ کی قیمت 38 سینٹ یا 0.6 فیصد بڑھ کر 60.34 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 37 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 56.36 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
اس سے قبل دونوں عالمی بینچ مارکس مسلسل دو روز میں ایک فیصد سے زائد تک گرے تھے کیونکہ مارکیٹ کے شرکا اور تجزیہ کار سال 2026 کے ابتدائی مہینوں میں عالمی سطح پر خام تیل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ مالیاتی ادارہ مورگن اسٹینلی نے پیش گوئی کی ہے کہ سال کے پہلے نصف میں عالمی منڈی میں رسد روزانہ تین ملین بیرل تک زیادہ رہ سکتی ہے۔
قیمتوں میں حالیہ کمی نے کچھ تاجروں کو موقع فراہم کیا جنہوں نے توقع کے برخلاف خریداری کی جس سے قیمتوں میں ہلکا سا اضافہ ہوا۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپلائی کے اضافی امکانات اس اضافے کو زیادہ دیر برقرار رکھنا مشکل بنا سکتے ہیں۔ ایک ماہر کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 54 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہونے کا امکان ہے۔
توانائی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، رواں سال 2 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی ذخائر میں 3.8 ملین بیرل کمی ہوئی، جس کے مقابلے میں تجزیہ کاروں کی متوقع تخمینے معمولی اضافے کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
اس دوران جیوپولیٹیکل پہلو بھی نمایاں رہے کیونکہ امریکہ وینزویلا کی تیل تجارت اور آمدنی پر مزید کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں امریکی کمپنی شیورون کے بڑھتے ہوئے لائسنس اختیارات، وینزویلا سے تیل کی ممکنہ نئی ترسیلات، اور امریکی بحریہ کی جانب سے وینزویلا سے منسلک ٹینکر ضبطی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی سپلائی کے بظاہر وافر امکانات اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر نچلے دباؤ کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔


Comments