BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Decreased By (-0.51%)
KSE100 Decreased By (-0.08%)
KSE30 Decreased By (-0.07%)
BAFL 57.02 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.27 Decreased By ▼ -0.08 (-0.26%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 191.51 Decreased By ▼ -0.94 (-0.49%)
FABL 94.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 52.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.27%)
FFL 14.57 Decreased By ▼ -0.15 (-1.02%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.91 Increased By ▲ 0.81 (0.26%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.16 Increased By ▲ 0.07 (1.15%)
LOTCHEM 26.41 Decreased By ▼ -0.05 (-0.19%)
MLCF 92.98 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
OGDC 315.50 Decreased By ▼ -1.23 (-0.39%)
PAEL 35.41 Decreased By ▼ -0.22 (-0.62%)
PIBTL 14.65 Decreased By ▼ -0.03 (-0.2%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.50 Decreased By ▼ -3.41 (-1.5%)
PRL 92.21 Decreased By ▼ -0.81 (-0.87%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.71 Decreased By ▼ -0.10 (-0.42%)
TELE 7.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.38%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.22 (-1.7%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

حکومت کا چینی کے شعبے کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

  • ڈی ریگولیشن کے فیصلے کے بعد چینی کی صنعت کی باگ ڈور مارکیٹ کی قوتوں کے ہاتھ میں ہوگی
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے کسانوں اور شوگر انڈسٹری کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے بعد چینی کے شعبے کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے تجویز کردہ ساختی اصلاحات کے نفاذ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

ایک جامع منصوبے کے مطابق، جس کی ایک کاپی بزنس ریکارڈر کے پاس دستیاب ہے، ڈی ریگولیشن کے فیصلے کے بعد چینی کی صنعت کی باگ ڈور مارکیٹ کی قوتوں کے ہاتھ میں ہوگی اور دہائیوں سے جاری سرکاری مداخلت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یہ اقدام گندم کے شعبے کی ڈی ریگولیشن کے بعد اگلا قدم ہے۔

منصوبے میں حکومتی نگرانی ختم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔

نئی پالیسی کے تحت کسانوں کو شوگرکین کی کاشت پر مکمل آزادی ہوگی اور وہ بغیر کسی پابندی کے اپنی پسند کی اقسام اور علاقے منتخب کرسکیں گے۔

کسانوں کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ اپنی گنے کی فصل کسی بھی شوگر مل کو فروخت کریں یا حکومت کی مداخلت کے بغیر اسے گڑ تیار کرنے کے لیے استعمال کریں۔

حکومت اب چینی کے خام مال یعنی گنے کی قیمت مقرر نہیں کرے گی۔ دستاویز کے مطابق کم ازکم امدادی قیمت کا نظام ختم کردیا جائے گا اور قیمتیں طلب اور رسد کی بنیاد پر طے ہوں گی۔ زرعی قیمتوں کے تعین کی یہ ایک بڑی تبدیلی ہے جو مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار کی طرف پیش قدمی ہے۔

ڈی ریگولیشن کے تحت حکومت شوگر برآمدات پر سبسڈی ختم کرے گی اور شوگر ملز کے لیے موجودہ برآمدی کوٹہ بھی منسوخ کردیا جائے گا۔

ایک بڑے آزادانہ تجارتی فیصلے کے طور پر چینی کی درآمد اور برآمد پر پابندی بھی ختم کردی جائے گی۔

منصوبے میں ملک بھر میں نئی شوگر ملز قائم کرنے پر پابندی اٹھانے کی بھی تجویز شامل ہے۔

ایسی ملز جو آٹھ ماہ تک بند رہی ہوں، اب خام مال درآمد کرسکیں گی۔ ڈی ریگولیشن سے شوگر ملز کو یہ اختیار بھی ملے گا کہ وہ مقامی گنے کے ساتھ درآمد شدہ خام چینی کو بھی پروسیس کرسکیں۔

صنعتی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے شوگر ملز کو خام چینی درآمد کرکے اسے مقامی طور پر ریفائن کرنے اور پھر برآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس اقدام سے صلاحیت کے بہتر استعمال اور ریفائنڈ چینی کی برآمد میں اضافے کی توقع ہے۔

اگرچہ حکومتی کردار کم کیا جارہا ہے لیکن کسانوں کے تحفظ کے لیے کچھ اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ہر بوائی کے موسم سے قبل ممنوعہ اقسام کی فہرست جاری کی جائے گی تاکہ کم پیداوار دینے والی یا ناقص اقسام کی کاشت کو روکا جائے اور کسان نقصان سے بچ سکیں۔

حکام کا ماننا ہے کہ یہ قدم مارکیٹ کی آزادی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کسانوں کو غیر منظم کاشت کے ممکنہ اثرات سے بچانے میں مدد دے گا۔

یہ اصلاحاتی پیکیج زرعی معیشت کو مارکیٹ پر مبنی نظام کی طرف منتقل کرنے کی بڑی کوشش ہے جو آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہے۔

شوگر سیکٹر سے نکل کر حکومت اپنے مالی بوجھ میں کمی لانا چاہتی ہے، مسابقت کو فروغ دینا چاہتی ہے اور بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنا چاہتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہوا تو ملک کی شوگر انڈسٹری میں بنیادی تبدیلی واقع ہوگی اور یہ شعبہ مقامی اور عالمی سطح پر مزید مسابقتی ہوجائے گا۔

ماہرین کے مطابق مجوزہ اصلاحات کا کسانوں، شوگر ملز اور صارفین سب پر گہرا اثر پڑے گا اور یہ چینی کی مارکیٹ کے منظرنامے کو مکمل طور پر بدل دیں گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

Comments are closed.