جیمز اتھارٹی کا قیام : وزارتِ تجارت کی قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی سے پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ رابطے و ہم آہنگی کی درخواست
- جواہرات اور سونے کی غیر دستاویزی تجارت روکنے کے لیے خودمختار ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت پر زور
وزارتِ تجارت نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت سے درخواست کی ہے کہ وہ پیٹرولیم ڈویژن کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرے ، تاکہ جیمز اتھارٹی کے قیام کو ممکن بنایا جا سکے، اتھارٹی کا مقصد پاکستانی جواہرات کے شعبے کو درپیش سپلائی سائیڈ چیلنجز اور ترقیاتی ضروریات کا مؤثر حل تلاش کرنا ہے۔
یہ تجویز وزارتِ تجارت کی جانب سے اس وقت پیش کی گئی جب چند روز قبل مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ملک کی گولڈ مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے خودمختار پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی تھی۔ سی سی پی نے مذکورہ شعبے میں بڑے پیمانے پر غیر دستاویزی سرگرمیوں اور مربوط نگران فریم ورک کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی تھی۔
وزارتِ تجارت کے مطابق ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ)جو وزارت کے انتظامی کنٹرول میں کام کرتی ہے ٹڈاپ ایکٹ 2013 کے تحت مارکیٹ ڈویلپمنٹ، تجارتی سہولت کاری، مصنوعات کی ترقی، آگاہی اور استعداد کار میں اضافہ، تجارتی مشنز کے ساتھ رابطہ اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت جیسے امور کی ذمہ دار ہے۔
اسی مینڈیٹ کے تحت ٹی ڈی اے پی پاکستان کی برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے مارکیٹنگ حکمتِ عملیوں پر فعال طور پر عمل درآمد کر رہی ہے، جن میں جواہرات اور زیورات کا شعبہ بھی شامل ہے۔
تاہم وزارت نے نشاندہی کی کہ قواعدِ کار 1973 کے تحت معدنی شعبے کے سپلائی سائیڈ معاملات جیسے جواہرات کی تلاش، کان کنی اور پروسیسنگ، پیٹرولیم ڈویژن کے انتظامی دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
اسی تناظر میں وزارتِ تجارت نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت سے درخواست کی ہے کہ وہ پیٹرولیم ڈویژن کو جیمز اتھارٹی کے قیام کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دینے اور حتمی شکل دینے کی ہدایت کرے، جو سپلائی سائیڈ مسائل کے حل اور شعبے کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
وزارت نے مزید کہا کہ ادارہ جاتی فریم ورک کی تکمیل کے بعد وہ تجارتی ترقی اور برآمدی فروغ کے حوالے سے مکمل تعاون فراہم کرتی رہے گی۔
سی سی پی کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں سالانہ 60 سے 90 ٹن سونا استعمال ہوتا ہے، جس کے باعث یہ جنوبی ایشیا کی بڑی گولڈ مارکیٹس میں شمار ہوتا ہے، اس کے باوجود 90 فیصد سے زائد سونے کی تجارت غیر رسمی ذرائع سے ہوتی ہے، جس میں زیادہ تر نقد لین دین اور غیر دستاویزی سپلائی چینز شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے 2023 میں 3 کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا، جبکہ 2025 کے اوائل میں سرکاری سونے کے ذخائر 64.75 ٹن تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ریکوڈک کاپر گولڈ منصوبے کے فعال ہونے سے مارکیٹ میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، جو اپنی 37 سالہ مدت میں تقریباً 74 ارب امریکی ڈالر کی پیداوار دے سکتا ہے۔
تاہم تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ ساختی اصلاحات کے بغیر پاکستان مقامی طور پر پیدا ہونے والے سونے کو باضابطہ معیشت میں شامل کرنے میں ناکام رہے گا۔
سی سی پی نے گولڈ مارکیٹ میں مسابقت کو متاثر کرنے والے متعدد عوامل کی نشاندہی کی، جن میں غیر شفاف قیمتوں کے تعین کا نظام، محدود ریفائننگ صلاحیت اور بکھرا ہوا ریگولیٹری ڈھانچہ شامل ہے۔
کمیشن کے مطابق یومیہ سونے کی قیمتوں کا تعین شفاف مارکیٹ فورسز کے بجائے مقامی تنظیموں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس سے قیمتوں میں ہیرا پھیری اور مصنوعی پریمیم کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
مطالعے میں ایک جامع اصلاحاتی پیکیج کی سفارش کی گئی، جس کا آغاز ایک واحد ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے کیا جائے جو لائسنسنگ، تعمیل، ہال مارکنگ اور درآمدی قواعد کو ہم آہنگ کرے۔ اس کے علاوہ ملاوٹ کی روک تھام اور صارفین کے اعتماد کی بحالی کے لیے ملک بھر میں ہال مارکنگ پر بھی زور دیا گیا۔
دریں اثنا وزارتِ صنعت و پیداوار نے ایک نئی قانونی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو پالیسی کی نگہبان ہو گی، کاروبار میں سہولت فراہم کرے گی اور نئی قومی جواہرات پالیسی کی حتمی منظوری سے قبل مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments