روس، یوکرین امن مذاکرات اور کمزور چینی معاشی اعدادوشمار کے باعث تیل 60 ڈالر سے نیچے آ گیا
- برینٹ کروڈ فیوچرز 81 سینٹ، یعنی تقریباً 1.3 فیصد گر کر 59.75 ڈالر فی بیرل پر بند
تیل کی قیمتیں منگل کو 60 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئیں، جو رواں سال مئی کے بعد سب سے کم سطح ہے، کیونکہ روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے امکانات مضبوط نظر آ رہے ہیں اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 81 سینٹ، یعنی تقریباً 1.3 فیصد گر کر 59.75 ڈالر فی بیرل پر بند ہو گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ 84 سینٹ، یا تقریباً 1.5 فیصد گر کر 55.98 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
رِسٹڈ اینرجی کے تجزیہ کار جانیو شاہ کے مطابق برینٹ آج صبح کئی ماہ بعد پہلی بار 60 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگیا، کیونکہ مارکیٹ ممکنہ امن معاہدے کا جائزہ لے رہی ہے، جس سے روسی پیداوار مزید مارکیٹ میں دستیاب ہو سکتی ہے اور سپلائی میں اضافے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
امریکہ نے کیف کے لیے نیٹو طرز کی سیکیورٹی ضمانتیں دینے کی پیشکش کی، اور یورپی مذاکرات کاروں نے پیر کو روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر پیش رفت کی اطلاع دی، جس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ تنازع کے خاتمے کے امکانات قریب ہیں۔
روس نے، دوسری جانب، کہا ہے کہ وہ یوکرین جنگ ختم کرنے کے مذاکرات میں کسی علاقائی مفاہمت پر راضی نہیں، جس کا حوالہ سٹیٹ نیوز ایجنسی تاس (ٹی اے ایس ایس) نے ڈپٹی فارن منسٹر سرگئی ریابکوف کے بیان سے دیا ہے۔
پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار جان ایوانز نے کہا ہے کہ مذاکرات میں طویل کشمکش کے ساتھ قیمتوں میں کمی بھی جاری رہے گی، اور برانٹ اس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ جائے گا، لیکن 55 ڈالر فی بیرل سے نیچے نہیں جائے گا۔
اس دوران، بارکلیز کے تجزیہ کار توقع کرتے ہیں کہ برانٹ کی اوسط 2026 میں 65 ڈالر فی بیرل ہوگی، جو مارکیٹ میں پہلے سے موجود 1.9 ملین بی پی ڈی کے سپلائی اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے تھوڑا سا آگے ہے۔
آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائی کامور نے نوٹ میں کہا ہے کہ دباؤ میں اضافے کی ایک وجہ پیر کو جاری ہونے والے کمزور چینی معاشی اعداد و شمار بھی ہیں، جن سے خدشہ بڑھا کہ عالمی طلب حالیہ پیداوار کے اضافے کو پوری طرح جذب نہیں کر پائے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی فیکٹری پیداوار کی شرح نمو 15 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی، جبکہ خوردہ فروخت دسمبر 2022 کے بعد سب سے سست رفتار سے بڑھی، جو کووڈ 19 وبا کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔
سپلائی کے زیادہ ہونے کے خدشے کو کچھ حد تک کم کرنے کے لیے، امریکہ نے گزشتہ ہفتے وینزویلا کے ساحل سے ایک آئل ٹینکر ضبط کیا، تاہم تاجروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا سے چین کی خریداری میں اچانک اضافہ اور فلوٹنگ اسٹوریج ( سمندری جہازوں میں ذخیرہ کی جانے والی تیل مصنوعات) میں اضافے نے اس اقدام کے مارکیٹ اثر کو محدود کر دیا ہے۔


Comments
Comments are closed.